میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، جسٹس منیب اختر

سپریم کورٹ (supreme court)

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سماعت کے دوران  جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ہیں ان کے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ  اسپیکر کس اسٹیج پر تحریک عدم اعتماد کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے؟جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ  نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت کئی سیاستدان اور وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے جبکہ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بھی وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے، عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ وہ اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے۔

سرپرائز: وزیراعظم عمران خان بچ گئے،تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد

چیف جسٹس نے  استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے دس ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا، ایسا کرنے سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو بنچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو وہ  بتائیں؟ اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں ہے تو پھرہم یہاں سے چلے جائیں گے۔

فاروق ایچ  نائیک نے کہا کہ ہمیں آپ پر مکمل اعتماد ہے اور اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے آٹھ مارچ کو اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی، اسپیکر قواعد کے مطابق چودہ دن میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں، اسپیکر نے تیرھویں دن اجلاس بلایا۔ اور 20 مارچ تک اجلاس نہ بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹی فی کیشن جاری کر دیا، پھر 28 مارچ کو اجلاس ہوا جو ایک ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن  نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس چودہ دنوں میں بلایا جانا ہے ؟

اپوزیشن کا اپنا اجلاس، ایاز صادق اسپیکر، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور، 196 ووٹ

جسٹس جمال مندوخیل نے مکالمہ کیا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے ؟ کیا 10 مارچ آرڈرز آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں،کیا 10 مارچ آرڈز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا ؟

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کی اجازت پر 7 دن کی معیاد شروع ہو جاتی ہے،اگر ممبران کی اکثریت کہتی ہے تحریک پیش نہ ہو تو کیا تحریک کی وقعت نہیں ہو گی ؟اگراکثریت 100 کی ہےاور 50 کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہو تو کیا پیش ہو گی؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر ہاؤس میں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے،ہاؤس میں قرار داد پیش ہونے کے بعد ہاؤس اجازت دیتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دیں، پھر کیا ہوگا؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر نے قرار داد کی اجازت دیکر معاملہ پر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کردیا۔

نگران وزیراعظم کیلئےسابق چیف جسٹس گلزار احمدکانام تجویز

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ  آئی ایم سوری،چھوڑیں یہ سب،مقدمہ کے حقائق پر آئیں،جس پر فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی۔اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سے سوال کیا اورفواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟  جسٹس منیب اخترنے پوچھا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا 3 اپریل کا اجلاس تحریک پر بحث کا موقع دینے کی بجائے مقرر کیا گیا ہے؟ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے کونسا دن دیا؟ تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے ؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی ،31مارچ کو عدم اعتماد پر بحث ہونی تھی،اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا۔

27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا ،عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے، 31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا۔

اپوزیشن کیوں چاہتی ہے کہ ہماری حکومت بحال ہو،وزیر اعظم عمران خان

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسپیکر سے تحریک پر بحث کرانے کی درخواست کی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا۔

چیف جسٹس عمر  عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی ،31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا ،اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی،عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک سازش سے آگاہ کیا ،تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی، جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے، اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے۔

شہباز شریف کا نگران وزیراعظم کیلئے نام دینے سے انکار

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے اور کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی  ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں، جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل  نے استفسار کیا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ممبر  کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی  صرف ووٹنگ ہوتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے،میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی ا سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے، جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا۔

کیا کمیٹی نے 197 ارکان کو غدارقرار دیا؟بلاول نے ترجمان پاک فوج سے وضاحت مانگ لی

جسٹس جمال خان نے پوچھا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تین اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا،ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ  198 ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا، اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے،کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟

فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ تحریک عدم اعتماد3منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ قانونی  نکتے  پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے، یہ بتائیں کہ ڈپٹی  اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے؟

‏اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں  کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں۔

آپ کہتے ہیں کہ ایک بار تحریک ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ان کا یہی موقف ہے۔اسپیکر اور ڈپٹی  اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،تحریک عدم اعتماد کے قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کیلئے مقرر ہونے سے پہلے ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپکا نکتہ  ہے عدم اعتماد پر ووٹنگ فکس تھی،آپ کا کہنا ہے ووٹنگ  فکس ہونے کے بعد عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی، ہمیں یہ پوائنٹ نوٹ کرنے دیں۔

جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہو گی؟

شہباز شریف نگران وزیر اعظم کے لیے مشاورت کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو نہ بنیں، فواد چودھری

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ایوان میں بحث کونسی بات پر ہوگی؟جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ایوان میں قرارداد کے حوالے سے بحث ہوگی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا ایوان میں بحث کا مقصد رولنگ لینا ہے؟ اور جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا رولنگ آئینی بے ضابطگی ہے یا قواعد کی؟

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد پر رولنگ آئین کے خلاف ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ اسپیکر کس ا سٹیج پر تحریک عدم اعتماد کی قانونی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد 20 فیصد سے کم ارکان کی جانب سے پیش کرنے کی منظوری دینے پر ہی مسترد ہو سکتی ہے،اسپیکر کسی صورت تحریک عدم اعتماد کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دے سکتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال اٹھایا کہ اسپیکر نے رولنگ میں آرٹیکل 5 کا سہارا لیا، اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 5 کے سہارے بھی تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی،پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی ہے اور کالعدم بھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو پارلیمانی کارروائی کے تحفظ کے نکتے  پر مطمئن کروں گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں،آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی،غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں۔

فاروق ایچ نائیک نے آرٹیکل 69 کے دائرہ اختیار سے متعلق 4 عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل  میں ہمارے لیے مسائل پیدا کرے گا،رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا، تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب  کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی۔

نگران وزیراعظم کی تقرری : صدر مملکت نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خط لکھ دیا

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ  اس پر بھی اپناموقف دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ کل تک ملتوی کر دیتے ہیں  تو فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ مقدمے کو آج ہی مکمل کریں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ خط کے معاملے پر سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، آپ نہیں گئے ، کیا نتائج ہیں؟ اور ہم سماعت کل تک ملتوی کررہے ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟

بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں،آج  ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ  ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی  کو توڑ چکے ہیں  اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے۔مزید سماعت کل ہو گی۔


متعلقہ خبریں