رضا ربانی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا امکان مسترد کر دیا

پاکستان کی فنانشنل اور معاشی صلاحیت غیر ملکی سامراج کو بیچ دی گئی، رضا ربانی

فوٹو: فائل


اسلام آباد: سابق چیئرمین سینیٹ و رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اداروں کے درمیان مذاکرات کی تجویز پیش کردی۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدات ہوا جس میں اپوزیشن کے ایجنڈا پر بحث ہوئی۔

اس موقع پر میاں رضاربانی نے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اسے غدار وطن کا تمغہ دے دیا جاتا ہے۔ آئین کے ساتھ مزید کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا ۔

موجودہ صورتحال میں حکومت کے خلاف نہ بولنا گناہ ہو گا، رہنما پیپلز پارٹی

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہ مذاکرات ہو سکتے ہیں نا ان کا کوئی فائدہ ہے۔ اداروں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیں۔

قائد ایوان، ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا صوبوں کے جزائر پر وفاق کے قبضہ کا تاثر دیا گیا ہے ۔ صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوتا ہے۔ جزائر سے جو روینیو آیے گا وہ سندھ کو ملے گا۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جزیروں کے معاملے پر سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات ہونے چاہیے تھے۔ سندھ اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ، ان کو اپنے حقوق ملنے چاہیے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کچھ قانون اور آئین کے مطابق چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں آرڈیننس کی اجازت ہے۔ آبی ذخائر بھٹو حکومت نے وفاق کے حوالے کیے تھے اب ان پر تنقید کیوں جارہی ہے۔

بحث میں سینیٹر سسی پلیجو اور بیرسٹر سیف سمیت دیگر ارکان نے بھی حصہ لیا ۔بعد میں سینیٹ کا اجلاس منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


متعلقہ خبریں