یوکرین میں پاکستانی سفیر جنرل (ر) زاہد مبشر شیخ کا خصوصی انٹرویو


میجر جنرل(ریٹائرڈ) زاہد مبشر شیخ اس وقت یوکرین میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہیں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ 1967ء میں کمیشن لیا اور فوج میں شمولیت اختیار کی۔ برطانیہ کی کران فیلڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا اور پاک فوج کے ٹیکنکل شعبہ میں مہارت حاصل کی۔ اس کے علاوہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے کورسز کیے۔ انہوں نے چار عشروں تک فوج میں خدمات سرانجام دیں۔ ایک عرصہ کے لیے ایران میں پاکستان کے ڈیفنس اتاشی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بطورماہر دفاعی امور اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ رہے۔ سال 2018ء میں یوکرین میں پاکستان کے سفیرمقرر ہوئے۔

میرا پہلا سوال پاکستان اور یوکرین کے درمیان تعلقات کے متعلق تھا جس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں یوکرین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئی جدت لانے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک تاریخ موجود ہے مگر ہمیں باہمی تجارت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے زور دیا کہ یوکرین ایک نئی منڈی ہے جس سے پاکستان کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ یوکرین میں ان کا تجربہ کیسا رہا، انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے دن کچھ اہداف طے کیے تھے۔ الحمداللہ، میں نے انہیں حاصل کیا ہے۔ ہم نے بہت سی نئی سمتوں میں کام کیا ہے اورکئی چیزوں میں بہتری لائے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سفارت خانے کی ویزا سروس اب مستعدی سے کام کر رہی ہے۔ بعض کیسز میں ہم نے درخواست دہندگان کو آدھے گھنٹے میں ویزا جاری کیا ہے۔

ان سے سوال کیا کہ ایک فوجی کو بطور سفارت کار کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ سفارت کاری بہرطور ایک پیچیدہ کام ہے مگر کسی بھی کام میں اصل چیز آپ کی لگن ہوتی ہے، باقی تمام چیزیں ذیلی ہیں۔ فوجی پس منظرکے باعث آپ کوکچھ برتری حاصل ہوتی ہے۔ آپ ایک بہت منظم ادارے سے پروان چڑھے ہوتے ہیں۔ آپ کی ایک خاص انداز میں تربیت ہوئی ہوتی ہے۔ یہ آپ کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔

دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون سے متعلق سوال کے جواب میں جنرل (ر) زاہد مبشر شیخ نے کہا کہ یوکرین یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس اور مشرقی یورپ کے مابین جاری معاشی اور عسکری کشمکش کے پس منظر میں اس کی خطے میں ایک خاص اہمیت ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی گلوبل ساؤتھ کے اہم ممالک میں سے ہے۔ ہماری عسکری ضروریات کے پیش نظر یوکرین ہمارے لیے ہمیشہ پرکشش رہا ہے۔ یوکرین اپنی بھاری صنعت اور ہتھیار سازی اور ٹینک سازی میں انفرادیت رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین مضبوط دفاعی مفادات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین میں تاریخی طور پر زیادہ تر سفیر فوجی پس منظر سے آتے رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچانے کی ضرورت ہے، پاکستانی سفیر نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس کا خواہش مند ہوں۔ میں نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ دفتر خارجہ کو اس طرف مزید توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں دفاع کے علاوہ دیگر معاشی پہلوؤں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یوکرین ایک انتہائی زرخیز زرعی ملک ہے۔ دنیا کی بہترین فصلیں یہاں اگائی جاتی ہیں۔ اسے یورپ کا بریڈ اینڈ بٹر کہا جاتا ہے۔

صنعت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی صنعت بہت مضبوط ہے۔ ہم یوکرین کے ساتھ صنعتی اور زرعی تعاون بڑھا کر کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ اس میں بہت پوٹینشیل موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنی توجہ چند روایتی منڈیوں پر مرکوز رکھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کے علاوہ ایک باہمی تجارتی تعاون کا بھی آغاز کریں۔

میں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان اور یوکرین کے درمیان باہمی تعلقات میں بہتری ممکن ہے جس پر جنرل (ر) زاہد مبشرشیخ کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سربراہان ریاست یا کم از کم وزیرخارجہ کی سطح پر باہمی روابط قائم ہوں۔ اسی طرح دونوں اطراف اعلیٰ سطحی دورے ترتیب دیے جانے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدرولادمیر یلنکسی ایک ہردلعزیز اور مقبول شخصیت ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے ان کا تعلق سنیما اور کامیڈی کی رنگا رنگ دنیا سے تھا۔ اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں بنیادی طور پر ایک کرکٹر ہیں اور ایک حد تک روایتی سیاستدانوں سے مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم مشترک نکتہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ دونوں رہنما مل کر کام کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معاشی طور پر کیسے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر معاشی اعشاریے دیکھے جائیں تو دونوں ملکوں کا شمار تیزی سے ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے ممالک میں ہوتا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان یوکرین کی زرعی اور صنعتی ترقی سے سبق حاصل کر سکتا ہے۔ 2014ء کے زرد انقلاب کے بعد کے اس عرصے میں یوکرین نے جن جمہوری اہداف کو حاصل کیا ہے ہم اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین میں پاکستانیوں کے لیے کاروبار کے اچھے مواقع موجود ہیں۔ لیکن کاروباری حضرات کے کچھ خوف اور تحفظات ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کا معیار تعلیم بہت اچھا ہے۔ پوری دنیا سے لوگ یہاں پڑھنے آتے ہیں۔ یہاں دوسرے مغربی اور وسطی یورپی ممالک کی نسبت تعلیم ارزاں ہے جسے پاکستان کا متوسط طبقہ افورڈ کر سکتا ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ یوکرین میں اتنے کم عرصے میں ان کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں پاکستانیوں کے مسائل میں بہت دلچسپی لیتا ہوں۔ مجھے اس سے خوشی ملتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری ذمے داری بھی ہے۔ ماضی میں یہاں پاکستانی مسافروں کو ویزا کے باوجود ڈی پورٹ کیے جانے کے بہت سے واقعات دیکھے گئے ہیں لیکن اس سلسلے میں میں نے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ خاص طور پر میں نے یوکرین کے وزیرخارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں ہیں جس کے بعد اب ایسے واقعات نہ ہونے کے برابررہ گئے ہیں۔ حال ہی میں میرے آنے سے ایک برس پہلے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 95 تھی جو ہماری کوششوں سے اگلے برس کم ہو کر فقط دو ہو گئی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ یوکرین اور پاکستانی معاشرے میں کیا بنیادی فرق محسوس کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہاں کا معاشرہ ہمارے سماج سے بہت مختلف ہے مگر یہاں بہت اچھی چیزیں بھی ہیں خاص طور پر یہاں لوگ اپنے کام سے پیار کرتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہاں کوئی شخص کسی کام میں عار محسوس نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو اس کے کام کی وجہ سے دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں ہر کوئی معاشی طور پر آزاد ہے۔ چوں کہ یہاں زیادہ سے زیادہ لوگ کماتے ہیں اس لیے خاندان معاشی مسائل کا شکار نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سلسلے میں یوکرین نے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں