‘کاروبار کرنے آتے ہیں چوری نہیں‘


اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آ ف ریونیو(ایف بی آر) شبر زیدی سے ملاقات کے دوران تاجر برادی نے شکایت کی ہے کہ ہم کاروبار کرنے آتے ہیں چوری نہیں، ہمیں چور کہنا نامناسب ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس میں شبر زیدی سے ملاقات کے دوران کاروباری حضرات نے عندیہ دیا کہ تاجروں کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال جاری رہا تو کام بند کردیا جائے گا۔

وفد نے اعتراض اٹھاکہ کہ محصول(ٹیکس) کے حوالہ سے بنائے جانے والے قوانین میں بہت سی قباہتیں ہیں ان کو آسان بنایا جائے تاکہ کاروبار آسان ہو سکے۔

تاجر برادری کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو حکومت نے محصولات کا جو ہدف رکھا ہے وہ حاصل نہیں ہو گا۔

تاجر برادری سے ملاقات کے دوران شبر زیدی کا کہنا تھا کہ  ہماری طرف سے کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جس سے کسی کاروبار کو نقصان ہو، بجٹ کا بنیادی مقصد پاکستانی صنعت اور روزگار کو بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہمارے ہاں درآمدات کا کام کرنے والے جانتے ہیں کہ یہاں سبز، پیلا  اور سرخ تین چینل چلتے ہیں اور  کلیئرنس میں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم سبز چینل کو 40سے بڑھا کر 60فیصد کریں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہمیں اب تک ریٹیلرز پر ٹیکس عائد کرنے میں ناکامی کا سامنا رہا اور اس معاملے پراب قانون سازی کریں گے جس کے تحت ریٹیلز کو تین شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

شبر زیدی نے کہا کہ کسٹم سے متعلق لوگوں کو مختلف شکایات ہیں ہم آئندہ ماہ سے اس سارے سسٹم کو خودکار بنانے جا رہے ہیں جس سے  خام مال کا کام  کرنے والوں کی مشکلات دور ہوجائیں گی۔

لاہور میں انہوں نے کہا کہ کے چینی کالین دین کرنے والوں کا ٹیکس بڑھایا نہیں کم کیا ہے اور اگر کسی بھی کموڈٹی ٹریڈ میں ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی تو بہتر کرنے کو تیار ہیں۔

تاجر برادری سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اجناس کی مد میں جو مسائل ہیں ان کو حل کرنے پربات چیت کیلیے تیار ہیں اور اگر ری فنڈ کا نظام نہیں چل سکا توپر بھی بات چیت کریں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے اس عزم  کا اظہار کیا کہ ہم اپنے ادارے میں اختیارات کے غلط استعمال کا سدباب کریں گے۔


متعلقہ خبریں