پیلٹ گن ایک مہلک ہتھیار، آٹھ ہزار سے زائد کشمیری متاثر



مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن کا شکار ہوئے، 18 ماہ کی ننی حبا کی ایک آنکھ بھی پیلٹ گن سے ضائع ہوئی۔

پیلٹ گن ایک مہلک ہتھیار ہے۔ جس کی گولیوں میں لوہے کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں۔ جس کو فائر کرنے کے بعد کارتوس سے نکلنے والے چھرے نما بال چاروں سمت پھیل جاتے ہیں۔

پیلٹ گن عام طورپر شکار کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے یہ ہتھیار انسانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارتی فوج نے کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار سال 2010 میں کیا جس میں درجنوں کشمیری شہید ہوئے اور سینکڑوں اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔

فروری 2018 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گن کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جولائی 2016 سے اب تک آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن سے زخمی ہو چکے ہیں جب کہ 128 افراد مکمل طور پر اپنی آنکھوں سے ہی محروم ہو گئے ہیں۔

سری نگر کی 18 ماہ کی معصوم حبہ بھی اس مہلک ہتھیار کا نشانہ بنی۔ جس سے اس کی دائیں آنکھ ضائع ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق پیلٹ گن سے 14 خواتین اور 16 پولیس اہلکار بھی نشانہ بنے۔

سماجی تنظیموں کے پر زور مطالبے کے بعد بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کچھ کم تو کیا لیکن اسے ابھی تک مکمل طورپر بند نہیں کیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں