پکڑ دھکڑ چھوڑ دیں توکوئی کام ہو، آصف زرداری

فائل فوٹو


ٹنڈو الہیار: پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت پکڑ دھکڑ چھوڑ دیں توکوئی کام ہو، یہ احمقوں کی حکومت ہے، انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔

سابق صدر نے کہا ان کوغلط فہمی ہے کہ ہمیں کوئی خوف ہے، جیل توہمارا دوسرا گھر ہے، ہماری گرفتاری سے کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ سیاست سوچ سمجھ کرکی جاتی ہے، میں انہیں انڈر16 کہتا ہوں انہیں کھیلنا آتا ہی نہیں۔ حکومت کا کام اے پی سی کے مجرموں کو ڈھونڈ کر سزا دینا ہے۔

پیپلزپارٹی کی شریک چیئرمین نے کہا کہ حکومت کہتی ہے ہمیں صرف 100 دن ہوئے ہیں، ہم نے 100 دن میں بہت کام کیے اور اپنے دور حکومت میں ہر مسئلے پر کام کیا۔ قبل ازوقت انتخابات کا اشارہ مل رہا ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ صوبے ساتھ  ہوں گے تو مضبوط ہوں گے، ایسا نہیں ہے کہ اسلام آباد مضبوط ہونے سے پاکستان مضبوط ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا حصہ کم نہیں ہوسکتا وہاں بہت مشکلات ہیں۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف جب بھی کارروائی ہوتی ہے وہ اورمضبوط ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی ہر مارشل لا کے ساتھ لڑی ہے۔ بھٹو نے ایوب خان کے خلاف آواز اٹھائی تو ایوب خان نے اپنے دور میں بنیادی جمہوریت کا ڈرامہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی عوام کا حق مجروح کیا گیا تو ہم نے آواز اٹھائی۔ مجھ پر اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اگر میں مان بھی جاؤں تو پارٹی، سندھ، پنجاب اور کے پی نہیں مانیں گے۔ جب بھی کوئی سیاسی پودا لگتا ہے تو اسے کاٹ کر مصنوعی پودا لگا دیا جاتا ہے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انتخابات شفاف ہوتے تو عمران خان کبھی بھی وزیر اعظم نہیں ہوتے۔ اُنہیں ووٹ نہیں ملا اس لیے اُنہیں عوام کی پرواہ بھی نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ڈالر کا پتہ نہیں، ڈالر جب اوپر جاتا ہے تو قرض بڑھ جاتے ہیں۔


متعلقہ خبریں