زلفی بخاری تعیناتی کیس میں وزیراعظم کو نوٹس جاری

اسرائیلی کارڈ ناکام: بھارت کے بعد اسرائیلی لابی کا ایجنڈا بے نقاب

فائل: فوٹو


اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی تعیناتی سے متعلق کیس میں عمران خان سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں زلفی بخاری کس عہدے پر ہیں؟

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زلفی بخاری معاون خصوصی کے عہدے پر فائز ہیں۔

عدالت کے سربراہ نے زلفی بخاری کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایک عام آدمی دوہری شہریت کی بنیاد پر وزیر بن سکتا ہے؟

سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی ہے۔ فریقین میں وزیر اعظم عمران خان، زلفی بخاری اور وفاقی حکومت شامل ہیں۔

درخواست گزار عادل چھٹہ نے سپریم کورٹ میں زلفی بخاری کی تعیناتی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔  درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ زلفی بخاری کو بطور معاون خصوصی کام کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ دوہری شہریت کا حامل شخص رکن قومی اسمبلی منتخب نہیں ہو سکتا۔ ان کا موقف ہے کہ معاون خصوصی نے بھی وہی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں جو منتخب رکن اسمبلی کرتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جو کام براہ راست نہیں ہو سکتا وہ بلا واسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کی نامزدگی غیر قانونی ہے اس لیے عدالت اس تقرری کو کالعدم قرار دیں۔

 

 


متعلقہ خبریں