چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کی جانب سے محفوظ فیصلہ سنایا گیا
انتظامی معاملات جیل مینوئل کے مطابق چلتے ہیں ، پی ٹی آئی چیئرمین اہم شخصیت ، زندگی کو تحفظ
دینا ضروری ہے
کارکنوں کا پیغام اور ذاتی استعمال کی ضروری اشیاء پہنچائی گئیں
ملزمان کا صحت جرم سے انکار ، کیس کےگواہان کا ریکارڈ 27 اکتوبر کو طلب
چیئرمین پی ٹی آئی کو ان کے بیٹوں سے واٹس ایپ کے ذریعے کال 4 سے 5 بجے کے درمیان ملا کر دی گئی۔
عدالت کا تحریری فیصلہ آنے تک سائیکل جیل کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے، سپرنٹنڈنٹ
جیل سپرنٹنڈنٹ اپنی نگرانی میں بات کروائیں ، خصوصی عدالت کا حکم
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ورزش کیلئے سائیکل فراہم کرنے کے بھی احکامات
اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ، ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم
جیل میں اخبار اور ٹیلی ویژن کی سہولت نہیں دی جا رہی ہے
میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ، کمرے میں چہل قدمی بھی ممکن نہیں ، چیئرمین پی ٹی آئی
توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل میں ترمیم کرکے ریاست کو فریق بنانے کی اجازت دی جائے ، عدالت سے استدعا
ہائیکورٹ طے کرے کہ کیا وزارت قانون جیل ٹرائل کا نوٹیفیکیشن جاری کر سکتی ہے ، درخواست میں موقف
دورانِ سماعت جیل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی
چیئرمین پی ٹی آئی تمام کیسز میں سرخرو ہوں گے









