بجلی نرخوں میں اضافہ مؤخر:صارفین کو ریلیف مل گیا؟

فوٹو: فائل


اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی سربراہی میں منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی کے نرخ فوری طورپر بڑھانے کی منظوری نہیں دی جس کے نتیجے میں مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو ایک ہفتہ کا ریلیف مل گیا۔

ہم نیوز کے مطابق نیپرا نے تین روپے 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی تھی لیکن اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پر عملدرآمد سے قبل مزید غور آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔ غالب امکان یہی ہے کہ عوام کو ملنے والا ریلیف عارضی ہے اورآئندہ ہفتہ نرخوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آئندہ پیر کو منعقد ہوگا۔ آج کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں در روپے فی یونٹ تک اضافہ کیے جانے کا امکان تھا۔

اردو نیوز جدہ نے گزشتہ روز خبر دی تھی کہ بجلی کی قیمتوں میں چار روپے فی یونٹ اضافہ کرکے بجلی صارفین سے 400 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔

خبر کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دو نکاتی ایجنڈے پر غورہونا تھا جس میں بجلی کی قیمتوں میں  اضافہ اور پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے کراچی میں درآمدی آر ایل این جی کو ہینڈل کرنے والے ایل این جی ٹرمینلز پر رپورٹ کا جائزہ لیا جانا تھا۔

اخبار کے مطابق پاور ڈویژن بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے کی جو سمری پیش کرے گی  اس کے تحت صارفین سے 400 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔

ذرائع کے حوالے سے اردو نیوز جدہ نے بتایا تھا کہ نیپرا کی طرف سے مالی سال 2016-17 اور 2017-18ءکے نرخوں کے تعین کے فیصلے میں چار روپے فی یونٹ اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس میں 180 ارب روپے خالص پن بجلی منافع اور 220 ارب روپے گزشتہ سالوں کے بقایا جات کی مد میں اضافہ مانگا گیا ہے۔

بجلی صارفین کے لیے اوسطاً قیمت گیارہ روپے 45 پیسے فی یونٹ ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی طرف سے قائم کردہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے متفقہ طور پر حکومت کو تمام سبسڈی کے خاتمے کی تجویز دی تھی۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق  سمری میں تجویز دی گئی تھی کہ 50 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نرخ فی یونٹ دو روپے سے بڑھا کر چار روپے، 100 یونٹ پرنرخ  پانچ روپے 79 پیسے سے بڑھا کرسات سے نو
روپے، 200 یونٹ استعمال پر آٹھ روپے گیارہ پیسے سے بڑھا کر دس سے 12 روپے کرنے کی تجویز دی گی تھی۔

دسمبر 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف حکومت کے چار سال کے دوران 136 ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری ہوئی تھی۔ سرکاری دستاویز میں باقاعدہ تسلیم کیا گیا تھا کہ 2013-14 سے لے کر 2016-17 کے دوران ملک میں 136 ارب 90 کروڑ 60 لاکھ روپے کی بجلی چوری ہوئی۔

عمران خان حکومت کی جانب سے تاحال یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی چوری روکنے کے لیے حکومت کیا اقدامات اٹھارہی ہے؟ کیونکہ ذرائع ابلاغ کے مطابق ’چوری‘ بجلی کی وصولی بھی تقسیم کار کمپنیاں انہی صارفین سے کرتی ہیں جو باقاعدگی سے بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں بھی 143 فیصد تک اضافے کی منظوری دی تھی جس سے صارفین پہلے ہی ہر ماہ 94 ارب روپے کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان حکومت پہلے ہی منی بجٹ کے ذریعے تقریباً 400 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرچکی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کو مہنگائی کے بدترین طوفان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔


متعلقہ خبریں