سوشل میڈیا پر اس ہفتے ’80 کی دہائی‘ کا اے آئی ٹرینڈ مقبول ہوگیا، جس میں صارفین کی بڑی تعداد کیساتھ پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے خود کو 1980 کی دہائی کے انداز میں دیکھنے کی کوشش کی۔
ٹرینڈ تیزی سے وائرل ہوا، جس کی مقبولیت اور صارفین کی پے در پے شمولیت سے سوشل میڈیا پر مزاحیہ پوسٹس بھی ہونا شروع ہو گئیں کہ ‘کوئی رہ تو نہیں گیا’۔
کوئی رہ تو نہیں گیا 1980 والے ٹرینڈ میں پک لگانے سے کیونکہ مجھے لگتا ہے chatgbt نے بند ہو جانا اور پھر کسی کو موقع نہیں ملنا 🤦🏻♀️
— اسماء شاہ (@asmashah78601) September 10, 2026
انڈسٹری سے اس ٹرینڈ کا حصہ بننے والوں میں پہل ماہرہ خان کے میڈیا پلیٹ فارم ’میشن‘ نے کی اور ماورا حسین، ماہرہ خان، عائزہ خان، انمول بلوچ، صنم سعید، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کیں۔
View this post on Instagram
پیج نے تصاویر کے ساتھ لکھا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو ایک مختلف دور کی ہیروئنز کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
تاہم پوسٹ پر بعض صارفین نے اے آئی کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ان اداکاراؤں نے اپنی تصاویر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
دوسری جانب اداکارہ صبور علی اور اداکار یاسر حسین سمیت متعدد شوبز شخصیات اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے انسٹاگرام پر اے آئی سے تیار کردہ اپنی تصاویر شیئر کیں۔
View this post on Instagram
یاسر حسین کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں ان کی اہلیہ اقرا عزیز کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل تھی، جبکہ صبور علی نے علی انصاری کے ساتھ اے آئی سے تیار کردہ تصویر اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی۔
شاہروز سبزواری، مریم نفیس، انوشے اشرف، زلے سرحدی، نور حسن، نمرہ خان اور ارمینہ خان سمیت دیگر شوبز شخصیات نے بھی اس ٹرینڈ میں حصہ لیا۔
View this post on Instagram
View this post on Instagram
View this post on Instagram
View this post on Instagram
دوسری جانب ’اسٹرنگز‘ کے بلال مقصود نے اے آئی ٹرینڈ کا حصہ بننے کے بجائے گروپ کے پرانے دور کی تصویر شیئر کی۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ لوگ اے آئی کے ذریعے خود کو 80 کی دہائی کا دکھا رہے ہیں، جبکہ اس دور کے لوگوں کے پاس اپنی تصاویر کے البمز موجود ہیں۔
View this post on Instagram
View this post on Instagram
پاکستانی ستاروں کے علاوہ بالی ووڈ شخصیات بھی ٹرینڈ کا حصہ بنیں جن کی اے آئی سے بنی تصاویر کو مختلف پیجز کی جانب سے شیئر کیا گیا۔
View this post on Instagram
اے آئی کے ذریعے ماضی کی یاد تازہ کرنے والے اس ٹرینڈ نے جہاں سوشل میڈیا پر تفریح کا سامان بہم فراہم کیا، وہیں اس نے لوگوں کی تصاویر جمع کرنے، انہیں اے آئی ٹولز کے ذریعے استعمال کرنے، رضامندی اور ڈیجیٹل شناخت کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
متعدد صارفین کی جانب سے اس ٹرینڈ کے ذریعے اے آئی کے غلط استعمال، ڈیپ فیک، پرائیویسی اور شناخت چوری کے خدشات بھی سامنے آئے۔
ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے اس ٹرینڈ پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ لوگ اپنی تصاویر اے آئی ٹولز کو فراہم کرکے مستقبل میں اپنی جعلی تصاویر بنائے جانے کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے صارفین کو متنبہ کرتے ہوئے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا کہ “تم سب احمق اپنے چہروں کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی کو تربیت دے رہے ہو تاکہ جب کوئی تمہارے ’ڈیپ فیکس بنانا چاہے تو یہ تمہاری تصاویر کو بہتر انداز میں تیار کر سکے۔ ہر نئے ٹرینڈ کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو۔ بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھروسہ کرنا بند کرو۔ مشینوں کو اپنے چہروں کا ڈیٹا فراہم کرنا بند کرو۔”
