سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ ’کاروباری، ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ‘ دینے کے لیے پاکستانی شہریوں کی ویزا درخواستوں کی اسی روز پراسیسنگ متعارف کرانے کا اعلان کر دیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اعلان سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کا آئل اسٹوریج، ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔
اس موقع پر وزیر پیٹرولیم نے پالیسی کے تحت سعودی کمپنیوں کو تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات سے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے منسلک بحری ترسیل کے خطرات میں تنوع لانے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔
(1/2) Federal Minister Ali Pervaiz Malik met 🇸🇦 Amb H.E. Dr. Rajeh bin Tami Al-Baqmi to discuss expanding strategic cooperation in oil storage, refinery upgradation, LPG supplies and minerals. The Minister highlighted investment opportunities in Pak’s bonded oil storage https://t.co/ydej04fpeI
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) October 30, 2026
انہوں ںے سعودی سفیر کو بتایا کہ بلوچستان کے علاقے حب میں بڑے پیٹرولیم اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس قائم کیا جائے گا جس سے پاکستان کے توانائی راہداری بننے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق مجوزہ حب کمپلیکس میں بڑے پیمانے پر کروڈ کیریئرز کے لنگرانداز ہونے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس پر سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام میں سعودی سرمایہ کاری اور شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام کا مقصد ملکی ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، کارکردگی بہتر بنانا اور یورو فائیو معیار کا ایندھن متعارف کرانا ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان معدنیات، پیٹرولیم اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے سعودی سفیر کو بتایا کہ سعودی حکام نے ینبع بندرگاہ پر پاکستان کے لیے خام تیل کی ترسیل کو ترجیح دی جس پر پاکستان ان کا مشکور ہے۔
علاوہ ازیں ملاقات میں پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سعودی آرامکو سے اضافی خام تیل اور مخصوص ایل پی جی سپلائی کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
تیل کے ساتھ ساتھ سردیوں میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر سعودی عرب سے ایل پی جی کی اضافی فراہمی کے لیے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اور توانائی تعاون کے فریم ورک کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر مشکل اور ہر صورتِ حال میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات قابلِ قدر ہیں۔
علی پرویز ملک نے سعودی نائب وزیر برائے معدنیات خالد المدیفر کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ یہ فورم 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے توانائی، پیٹرولیم اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
