پارلیمانی فورم برائے آبادی (پی ایف پی) نے پاکستان کو درپیش آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں، پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے اور مقررہ مدت پر مشتمل قومی ایکشن پلان تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آبادی کونسل کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کے تعاون سے منعقدہ پارلیمانی فورم برائے آبادی کے 17ویں اجلاس میں سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور آزاد جموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی کے ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں قومی سطح پر کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، اداروں کی جواب دہی یقینی بنانے اور آبادی سے متعلق معاملات کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق دنیا کی آبادی 2024 میں 8 ارب 20 کروڑ تھی جو 2026 میں بڑھ کر تقریباً 8 ارب 30 کروڑ ہو چکی ہے، پاکستان کی 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار سے زائد تھی جبکہ اقوام متحدہ کے 2025 کے تخمینے میں یہ تعداد تقریباً 25 کروڑ 52 لاکھ بتائی گئی تھی۔
فورم کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کو آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل پارلیمانی قیادت، مؤثر نگرانی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے عوامی آگاہی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مقامی حکومتیں عوام تک رسائی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیلی ویژن، ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے قومی اور مقامی زبانوں میں آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث گھریلو وسائل، عوامی خدمات اور غذائی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ، غذائی عدم تحفظ اورماؤں و بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبادی سے متعلق معاملات کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا مطلب صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نہیں بلکہ ہر بچے کو بہتر مستقبل کے مواقع اور ہر خاتون کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔
احسن اقبال نے لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کو اہم قراردیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح 2017 میں 2.4 فیصد تھی جو 2023 میں بڑھ کر 2.55 فیصد ہوگئی۔
انہوں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظرثانی کی تجویز بھی دی اور کہا کہ وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے میں آبادی کو بنیادی معیار بنانے سے پیدا ہونے والی نامناسب ترغیبات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
پارلیمانی فورم کے نائب چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کو محض قراردادیں منظور کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ قانون سازی، نگرانی اورعملی اقدامات میں بھی زیادہ فعال کردارادا کرنا چاہیے، انہوں نے مقامی حکومتوں کو شامل کرنے اور عوامی سطح پرجواب دہی مضبوط بنانے پر زور دیا۔
آبادی کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر علی محمد میر نے کہا کہ پارلیمانی فورم شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی، حکومتی اداروں کی نگرانی اور جواب دہی کو مضبوط بنانے کا اہم پلیٹ فارم ہے، آبادی کے رجحانات کو محض بوجھ سمجھنے کے بجائے جامع، مساوی اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم قومی ترجیح کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان کو واضح اور مقررہ مدت پر مشتمل عملی منصوبے کی ضرورت ہے، جس کے لیے صوبوں کی ذمہ داری، مناسب بجٹ اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانے نے بھی پارلیمانی قیادت اور مربوط حکومتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا، قومی وعدوں کو ایسے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو پائیدار ترقی اور خاندانوں کی فلاح و بہبود میں بہتری لائیں۔
اجلاس کے شرکا نے آبادی اور صحت کی خدمات میں بہتر رابطہ کاری، غذائی قلت پر قابو پانے، لڑکیوں کی تعلیم، عوامی آگاہی اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر پی ایف پی اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا گیا، جس میں آبادی اور ترقی سے متعلق قومی ترجیحات پر پیش رفت کے لیے پارلیمانی تعاون، مربوط قومی اقدامات اور مؤثر نگرانی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



