ہم نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) درید قریشی نے پاکستان میں مقامی کرداروں، روزمرہ زندگی اور ثقافتی ورثے پر مبنی اصل اینیمیٹڈ مواد تیار کرنے کے لیے جلد نیا اینیمیشن چینل شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان کی اینیمیشن اور ڈیجیٹل تخلیقی صنعت کے فروغ کے لیے شہر قائد میں کراچی فریمز 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے معروف اینیمیشن اسٹوڈیوز، ماہرین، نوجوان فنکاروں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں پاکستان کی اینیمیشن انڈسٹری کو عالمی منڈی تک پہنچانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
27 اکتوبر کو این ای ڈی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم اور سینٹر آف ایکسی لینس اِن گیمنگ اینڈ اینیمیشن (سیگا) کراچی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کا اہتمام سیگا نے کیا، جبکہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ نے معاونت فراہم کی۔ ہم نیٹ ورک لمیٹڈ نے تقریب میں مرکزی انتظامی اور میڈیا پارٹنر کا کردار ادا کیا۔

تقریب کے دوران ہم نیٹ ورک کے سی ای و درید قریشی نے پاکستان میں مقامی کرداروں، روزمرہ زندگی اور ثقافتی ورثے پر مبنی اصل اینیمیٹڈ مواد تیار کرنے کے لیے ہم نیٹ ورک کے تحت ایک مخصوص اینیمیشن چینل شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
درید قریشی نے کہا کہ عالمی اینیمیشن انڈسٹری کی مالیت تقریباً 350 ارب ڈالر ہے، جبکہ اس شعبے میں پاکستان کا حصہ 10 کروڑ ڈالر سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ آبادی جو ڈیجیٹل مواد اور اینیمیشن کے لیے وسیع امکانات رکھتی ہے جس میں 25 سال سے کم عمر افراد کی بڑی تعداد شامل ہے، اسے صرف مواد دیکھنے اور استعمال کرنے کے بجائے تخلیق کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔
درید قریشی نے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت نوجوان، تخلیقی صلاحیتیں اور ٹیکنالوجی تک رسائی موجود ہے، جنہیں مؤثر انداز میں استعمال کرکے عالمی اینیمیشن اور ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ہم نیٹ ورک کی چیئرپرسن سلطانہ صدیقی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تربیت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور نظم و ضبط، محنت، دیانت داری اور وقت کی پابندی کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنس دانوں، ہیروز، ماؤں، ثقافت اور روایات سے متعلق بے شمار کہانیاں موجود ہیں، جنہیں تخلیقی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔
سیگا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سید بلال قاسم نے کہا کہ ادارے کا مقصد محض تربیتی مرکز قائم کرنا یا افراد کو ہنر سکھانا نہیں، بلکہ پاکستان میں اینیمیشن کی ایک جامع قومی صنعت کا ماحول تشکیل دینا ہے۔ 200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کے علاوہ ایسی بنیادیں قائم کرنا بھی منصوبے کا حصہ ہے، جو جدت، روزگار اور کاروباری مواقع کو فروغ دیں۔
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر اور جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر طفیل جوکھیو نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکسوں اور بیرون ملک سے ترسیلات زر پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات اور زرمبادلہ کمانے والی صنعتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق گیمنگ اور اینیمیشن کے شعبے ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیمنگ اور اینیمیشن کو صرف تفریح تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ان ٹیکنالوجیز کے انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔
اینیمیشن انڈسٹری اور مصنوعی ذہانت پر خصوصی سیشنز
کراچی فریمز 2026 کا ایک اہم حصہ ”فریم ٹاکس“ سیشنز تھے، جن میں پاکستان کی اینیمیشن انڈسٹری کی موجودہ صورتحال، مستقبل کے امکانات اور عالمی سطح پر مسابقت کے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
ایس او سی فلمز کے ہیڈ آف پروڈکشنز، اینیمیشن اینڈ اے آئی کامران خان نے ”پاکستان میں اینیمیشن کی موجودہ صورتحال“ کے عنوان سے سیشن میں شرکت کی۔ اس دوران مقامی صنعت کو درپیش چیلنجز اور ترقی کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔
ایونٹ میں مصنوعی ذہانت کے تخلیقی شعبے پر اثرات کے حوالے سے بھی خصوصی مباحثہ ہوا، جس میں اے آئی کے ذریعے اینیمیشن بنانے کے مواقع، ممکنہ خطرات اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
ایم آئی کیو اینیمیشن، انوویٹو پکسلز، شارپ امیج اور پیرانی پروڈکشنز سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے اینیمیشن اسٹوڈیوز کے قیام، بین الاقوامی منصوبوں کے حصول اور پاکستانی تخلیقی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے کے تجربات بھی شیئر کیے۔
نوجوان فنکاروں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے سرگرمیاں
تقریب میں ”گیلری اَن فریمڈ“ کے تحت کریکٹر آرٹ، ڈیجیٹل تخلیقات اور دیگر فن پارے پیش کیے گئے، جبکہ ”فریم چیک“ کے ذریعے نوجوان فنکاروں کو اپنے پورٹ فولیوز کا جائزہ لینے اور تجربہ کار ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔
سیگا سینٹر میں ”دی اینی ورس“ کے نام سے اینیمیشن شوکیس بھی منعقد کیا گیا، جس میں 2D اور 3D اینیمیشن، موشن گرافکس اور تجرباتی کہانیوں پر مبنی منتخب مختصر فلمیں پیش کی گئیں۔ جیوری کی جانب سے منتخب کردہ تین بہترین تخلیقات کو تسلیم کیا گیا، جبکہ ان کے کام کو ہم نیٹ ورک کے ذریعے نمائش کا موقع دینے کا اعلان کیا گیا۔
اس کے علاوہ سیگا کے تخلیقی مقابلے ”برانڈ کینوس“ کے فاتحین کو بھی اعزازات دیئے گئے۔ مقابلے میں ”سیگا ایڈ فلم“ اور ”دیسی اینیمے میمز“ کے دو حصوں میں تخلیقی کہانی نویسی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا۔

