برازیل کے بائیں بازو کے رہنما لوئیز اناسیو لولا دا سلوا صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہو گئے۔
انتخابات میں لولا دا سلوا کی کامیابی کو ٹرمپ کے لیے سیاسی دھچکے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے حریف فالیویو بولسونارو واشنگٹن کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات کے حامی تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور لولا دا سلوا کے درمیان تجارت اور خارجہ پالیسی پر اختلافات رہے ہیں۔ لولا دا سلوا چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے اور عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے کے حامی ہیں۔
علاوہ ازیں غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کیساتھ بھی لولا دا سلوا تعلقات کشیدہ ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ فلسطینی مسئلے پر لولا کا مؤقف اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر ان کی شدید تنقید ہے۔ فروری 2024 میں انہوں نے غزہ کی صورتحال کا موازنہ ہولوکاسٹ کے دوران نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام سے کیا تھا ، اسرائیلی حکومت نے ان کے بیان کو یہودیوں کی توہین قرار دیا تھا۔
برازیل کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے مطابق لولا دا سلوا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ دائیں بازو کے امیدوار سابق صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو کے حصے میں 48.25 فیصد ووٹ آئے۔
اتوار کو ووٹنگ کے دوران غیر معمولی پیشرفت میں سپریم کورٹ نے سفری اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث پولنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھانے کا حکم دیا، اس فیصلے کے بعد ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی۔
لولا دا سلوا اس سے قبل 2003 سے 2011 تک دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں اور 2023 میں تیسری بار اقتدار میں آئے تھے۔ حالیہ کامیابی کے بعد وہ برازیل کی تاریخ میں چار مرتبہ صدر منتخب ہونے والے پہلے رہنما بن گئے ہیں۔
دوسری جانب برازیل کے سینیٹر فلاویو بولسونارو نے صدارتی الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹنگ کے اوقات میں آخری وقت پر توسیع ناقابل قبول ہے، صدارتی انتخابات کے نتائج کالعدم قرار دیئے جائیں۔


