معروف پاکستانی فیشن ریٹیلر کھاڈی پاکستان لمیٹڈ کا پری آئی پی او (ابتدائی عوامی پیشکش) کے ذریعے مجموعی طور پر 8.3 ارب روپے حاصل کرنے کا عزم ہے، اس رقم کا استعمال ریٹیل نیٹ ورک بڑھانے اور موجودہ آؤٹ لیٹس کو بڑے ’ایکسپیرینس اسٹورز‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کیا جائے گا۔
کھاڈی، ویوز کارپوریشن لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے جس نے پری آئی پی او کے تحت بلیو چِپ سرمایہ کاروں کو 25 کروڑ حصص 12 روپے 40 پیسے سے 15 روپے 20 پیسے فی شیئر کے حساب سے پہلے ہی پیش کیے ہیں، اس پیشکش سے کمپنی کو 3.1 ارب سے 3.8 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
کمپنی آئی پی او کے ذریعے مزید 25 کروڑ حصص پیش کرے گی جن کی قیمت 12.40 سے 18 روپے فی شیئر مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح آئی پی او سے مزید 3.1 ارب سے 4.5 ارب روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔
پری آئی پی او اور آئی پی او سے مجموعی طور پر 6.2 ارب سے 8.3 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے جو تقریباً 22 ملین سے 30 ملین ڈالر بنتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ اس ٹرانزیکشن کیلئے لیڈ منیجر اور بک رنر کا کردار ادا کررہا ہے جبکہ بک بلڈنگ نومبر میں متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ سے زیادہ قیمت پر یہ پیشکش رواں سال چینی ٹائر منصوبے سروس لانگ مارچ کی شیئر فروخت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان میں کسی نجی کمپنی کی جانب سے سب سے بڑا آئی پی او بن سکتی ہے۔
’ایکسپیرینس اسٹورز‘ کیلئے سرمایہ کاری
آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم بنیادی طور پرکھاڈی کے ’’ایکسپیرینس اسٹور‘‘ فارمیٹ کیلئے سرمایہ کاری پر خرچ کی جائے گی۔
کمپنی کے مطابق نئے فارمیٹ کا مقصد صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا اور مصنوعات کی رینج کو وسیع کرنا ہے۔
کھاڈی کے پاکستان میں اس وقت 31 اسٹورز ہیں، جن میں سے 2026 کی پہلی ششماہی تک 18 کو نئے فارمیٹ میں تبدیل کیا جاچکا تھا جبکہ باقی 13 اسٹورز کو بھی تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔
کمپنی 2027 سے سالانہ تقریباً 3.5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے جس کی مالی ضروریات آئی پی او سے حاصل رقم اور اندرونی طور پر پیدا ہونے والی نقد رقم سے پوری کی جائیں گی۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی کی ہے اور تیزی سے جغرافیائی توسیع کے ’’گو وائیڈ‘‘ ماڈل کے بجائے کم تعداد میں بڑے اور زیادہ پیداواری اسٹورز پر توجہ مرکوز کرنے والے ’’گو ڈیپ‘‘ ماڈل کو اختیار کیا ہے۔
منافع میں اضافے کا ہدف
کھاڈی نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 1.6 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا جبکہ 2025 کے پورے سال کا منافع 1.7 ارب روپے اور 2024 میں 1.4 ارب روپے تھا۔
کمپنی نے 2026 کیلئے 3.1 ارب روپے سے زائد اور 2027 کیلئے 4.8 ارب روپے سے زیادہ بعد از ٹیکس منافع کا ہدف مقرر کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق 2026 کی متوقع آمدنی کی بنیاد پر اس کے حصص تقریباً 10 گنا پوسٹ منی پرائس ٹو ارننگز ملٹی پل پر پیش کیے جارہے ہیں جو 2027 کیلئے اندازاً 6.5 گنا رہ جائے گا۔
2026 کی پہلی ششماہی میں کھاڈی کا مجموعی منافع 6.3 ارب روپے رہا، جبکہ مجموعی منافع کی شرح 37 فیصد ہوگئی جو 2025 میں 36 فیصد اور 2024 میں 34 فیصد تھی۔اس دوران آپریٹنگ منافع 2.6 ارب روپے رہا۔
پاکستان میں آئی پی اوز کا ریکارڈ سال
کھاڈی کا آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب پاکستان میں رواں سال آئی پی او مارکیٹ میں سرگرمی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
بلومبرگ کے مرتب اعداد و شمار کے مطابق اب تک 13 آئی پی اوز کے ذریعے مجموعی طور پر 24.9 ارب روپے حاصل کیے جاچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 میں اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی بڑھتی شرکت نے کمپنیوں کی ایکویٹی مارکیٹ میں واپسی میں کردار ادا کیا ہے۔
400 مربع فٹ اسٹور سے قومی برانڈ تک
کھاڈی کی بنیاد شمعون سلطان نے 1998 میں کراچی کے زمزمہ علاقے میں 400 مربع فٹ کے اسٹور سے رکھی تھی۔ کمپنی نے ابتدا میں مردانہ ملبوسات پر توجہ دی اور پھر 2002 میں خواتین کے ملبوسات متعارف کرائے۔
2008 میں کمپنی نے اپنی لگژری لائن ’کھاڈی خاص‘ کا بھی آغاز کیا۔
کمپنی اب پاکستان کے 14 شہروں میں کام کررہی ہے جبکہ اس کا ای کامرس پلیٹ فارم 200 سے زائد شہروں میں صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
کھاڈی کا جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اسٹور بھی پاکستان میں ہے، جس کا رقبہ تقریباً 45 ہزار مربع فٹ ہے۔
ویوز کارپوریشن اپنی الگ ذیلی کمپنیوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا میں بھی کھاڈی کے اسٹورز چلاتی ہے۔
آئی ایف سی کی 25 ملین ڈالر سرمایہ کاری
ورلڈ بینک گروپ کے رکن انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے 2022 میں کھاڈی میں اقلیتی حصص کے عوض 25 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔
کمپنی کے مطابق فیشن ریٹیل کے شعبے میں آئی ایف سی کی یہ عالمی سطح پر پہلی سرمایہ کاری تھی۔

