وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں وفاقی وزارت داخلہ کے زیرِ انتظام ایک بڑے گرینڈ خدمت مرکز کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے 10 روز میں اس کا ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
محسن نقوی نے آئی آئی چندریگر روڈ پر وزارت داخلہ کے دفتر کا دورہ کیا جہاں گرینڈ خدمت مرکز کے قیام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مرکز میں وزارت داخلہ کے ماتحت مختلف اداروں کے کاؤنٹرز ایک ہی جگہ موجود ہوں گے، جہاں شہریوں کو ایک چھت تلے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، اسلحہ لائسنس، مختلف این او سیز اور دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ خدمت مرکز کا ماسٹر پلان تمام ضروری تقاضوں، شہریوں کی سہولت اور اداروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے، محسن نقوی نے مرکز کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے اداروں میں پاسپورٹ و امیگریشن، نادرا اور دیگر متعلقہ شعبے شامل ہیں، اس لیے مجوزہ مرکز کا مقصد مختلف سرکاری خدمات تک شہریوں کی رسائی کو ایک ہی مقام پر آسان بنانا ہے۔
محسن نقوی کے اہم اقدامات
کراچی میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک جامع خدمت مرکز کا منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہریوں کے لیے شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق خدمات کو مزید آسان اور تیز بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
اے پی پی کے مطابق محسن نقوی نے دسمبر 2024 میں اسلام آباد میں نئے امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ہیڈکوارٹرز کے افتتاح کے موقع پر کراچی اور لاہور میں ماڈل پاسپورٹ سینٹرز قائم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اسی موقع پر انہوں نے ملک کے 14 نادرا میگا سینٹرز میں پاسپورٹ کاؤنٹرز فعال کرنے کا منصوبہ بھی بتایا تھا۔
کراچی میں پہلے ہی عوامی مرکز پاسپورٹ آفس اور نادرا کے مراکز کے ذریعے متعلقہ خدمات فراہم کی جارہی ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق اگست 2026 میں محسن نقوی نے عوامی مرکز پاسپورٹ آفس کا دورہ کرکے شہریوں سے سروس کے بارے میں براہِ راست رائے لی اور مرکز کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کی تھی۔
اسی طرح جون 2026 میں انہوں نے کراچی کے صفورہ گوٹھ میں نادرا میگا سینٹر کا دورہ کرکے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کے اجرا کے عمل اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا تھا۔
وزارت داخلہ کی سطح پر ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمات کو جدید بنانے کا عمل بھی جاری ہے، اگست 2026 میں وزارت کے ماتحت اداروں کو دو سالہ تبدیلی کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس میں سروس ڈیلیوری، اداروں کے درمیان رابطے اور جدید نظام کے فروغ پر زور دیا گیا۔



