سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر و وکیل ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ضمانت دیتے ہوئے ان کی 17،17 سال قید کی سزا معطل کردی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کے حتمی فیصلے تک نافذ العمل رہے گا، عدالت نے دونوں کو 2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز اگست 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے سے ہوا تھا۔
پراسیکیوشن کے مطابق ایمان مزاری نے ایسی سوشل میڈیا پوسٹس کیں جن میں مبینہ طور پر کالعدم اور دشمن گروہوں سے منسلک بیانیوں کی تشہیر کی گئی، سکیورٹی فورسز پر تنقید کی گئی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پربنیادی طور پر ایمان مزاری کی بعض پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
12 اگست 2025: این سی سی آئی اے نے اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ دونوں نے لاپتا افراد کے معاملات میں سکیورٹی فورسز کو ذمہ دار قرار دیا اور مسلح افواج کو کالعدم تنظیموں، بشمول بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی میں ناکام ظاہر کیا۔
ستمبر 2025: اسلام آباد کی سیشن عدالت نے پہلے دونوں کو عبوری قبل از گرفتاری ضمانت دی، بعد ازاں ضمانت کی توثیق کردی۔وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا اور ہادی چٹھہ کے خلاف بنیادی الزام ایمان مزاری کی ایک پوسٹ دوبارہ شیئر کرنے سے متعلق ہے۔
29 اکتوبر 2025: ہادی چٹھہ کو اسلام آباد کی ایک عدالت کے باہر گرفتار کرلیا گیا۔ اگلے روز 30 اکتوبر کو دونوں پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ ملزمان نے الزامات سے انکار کیا۔
نومبر 2025:نومبر میں عدالت نے دونوں کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے، تاہم اگلے روز وارنٹ واپس لے لیے گئے۔ 28 نومبر کو ہادی چٹھہ نے مقدمے سے بریت کی درخواست دائر کی جبکہ ان کے وکلا کی جانب سے سرکاری وکیل کی تعیناتی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔
دسمبر 2025: سیشن عدالت نے ایمان مزاری کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔ دونوں نے دفاعی گواہوں کی فہرست جمع کرانے کے ساتھ ٹرائل جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست بھی دائر کی۔
11 دسمبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا معاملے کے فیصلے تک ٹرائل کی کارروائی روکنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے استغاثہ کے گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی۔
جنوری 2026: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور دفاعی گواہ طلب کرنے کی درخواست دی۔ 15 جنوری کو دونوں کی عدم حاضری پر ٹرائل کورٹ نے ضمانت منسوخ اور استغاثہ کے گواہوں پر جرح کا حق ختم کردیا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں کی ضمانت بحال کرتے ہوئے دفاع کا حق بھی بحال کردیا۔

23 جنوری کو دونوں کو ایک الگ مقدمے میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ اگلے روز 24 جنوری کو سوشل میڈیا کیس میں ٹرائل کورٹ نے دونوں کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پیکا کی دفعہ 9 کے تحت 5،5 سال قید اور 50،50 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 10 کے تحت 10،10 سال قید اور 3،3 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 26 اے کے تحت 2،2 سال قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے دفعہ 11 کے تحت نفرت انگیز تقریر کے الزام سے دونوں کو بری کردیا۔
دونوں نے 7 فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی سزاؤں کے خلاف الگ الگ اپیلیں دائر کیں۔ 19 فروری کو ہائیکورٹ نے اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کیے تاہم اس مرحلے پر سزائیں معطل نہیں کی گئیں۔
مئی 2026: سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ دونوں کی سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے۔ تاہم جون اور جولائی میں معاملہ مختلف وجوہات کی بنا پر آگے نہ بڑھ سکا۔ 24 جولائی کو ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا، بعد ازاں استغاثہ کا اعتراض مسترد کرکے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا۔
اگست 2026: سپریم کورٹ نے کیس میں مسلسل تاخیر پر سوالات اٹھائے۔ وکلا نے عدالت کو بتایا کہ 12 مئی کے حکم کے باوجود سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے معاملہ 17 ستمبر تک ملتوی کردیا۔
8 ستمبر: اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث مؤخر ہوگئی اور سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
17 ستمبر: سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت دے دی۔ عدالت نے 2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا۔
دورانِ سماعت حکومت کی جانب سے ضمانت کی مخالفت کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں کیا جبکہ دفعہ 426 کے تحت سزا معطل کرنے کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملے کی بار بار التوا کی جانب توجہ دلائی اور سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے جاری کی گئی دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کا حوالہ دیا۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی مل گئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر آئندہ سماعت 23 ستمبر کو مقرر ہے۔


