نئی دہلی: بالی ووڈ کی آنجہانی سپر اسٹار سری دیوی کی جانب سے 1988ء میں خریدی گئی چنئی کی 2.7 ایکڑ زمین کا تنازع بھارتی سپریم کورٹ پہنچ گیا، جہاں عدالتِ عظمیٰ نے تمام فریقین کو باہمی رضامندی سے معاملہ حل کرنے کے لیے ثالثی کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کردی۔
بھارتی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ تنازع کے حل کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو ثالث مقرر کیا جائے گا، جو تمام فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے معاملہ طے کرانے کی کوشش کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق سری دیوی نے یہ زمین 1988ء میں خریدی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد 2018ء میں ان کے شوہر بونی کپور نے مذکورہ زمین اپنے اور اپنی دونوں بیٹیوں جھانوی کپور اور خوشی کپور کے نام منتقل کروائی۔
بعد ازاں ایم سی چندرشیکرن کے ورثا ہونے کا دعویٰ کرنے والے تین افراد نے زمین کی ملکیت کو چیلنج کردیا۔
درخواست گزاروں نے 1988ء میں ہونے والے سیل ڈیڈ کو منسوخ کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مختلف قانونی مراحل سے گزرتا ہوا بھارتی سپریم کورٹ تک پہنچا۔
سماعت کے دوران بونی کپور کے وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ زمین کی خریداری کے تقریباً 40 سال بعد اس نوعیت کا دعویٰ دائر کرنا قانونی عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔
وکیل کے مطابق زمین کی فروخت کے وقت سابق مالک کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد معاملے کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ باہمی مشاورت کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ عدالت نے ثالثی کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی تقرری کا بھی عندیہ دیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔ یوں سری دیوی کی کئی دہائیاں قبل خریدی گئی چنئی کی قیمتی زمین سے متعلق ملکیتی تنازع اب ثالثی کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔



