ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے اور مصر اس میں ممکنہ طور پر شامل ہوسکتا ہے۔
ہاکان فیدان نے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس کے تحت یکجا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے جمعے کے روز مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس میں طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے حالیہ مہینوں میں علاقائی معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک گروپ بھی تشکیل دیا ہے، جسے ’’آر فور‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ترکیہ کے مطابق اس گروپ کا مقصد ٹھوس طریقہ کار کے ذریعے شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔
ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے، کیونکہ بحری جہازوں کی سلامتی انقرہ کے مفادات سے متعلق ہے۔
‘معاہدہ ایران یا کسی ملک کے خلاف نہیں’
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 کے باہمی دفاعی معاہدے جیسا ہے، تاہم یہ ایران یا کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ تینوں اتحادی ممالک کی سلامتی کے لیے عمومی تعاون کی یقین دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں اتحادی ممالک مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کس نوعیت، سطح اور طریقہ کار کے تحت مدد فراہم کی جائے گی۔ ان کے بقول جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا، کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ نیٹو ایک بڑا فوجی اتحاد ہے جس میں 32 ممالک شامل ہیں، جبکہ اس اتحاد کا آغاز تین ممالک سے ہوا ہے اور اس حوالے سے محتاط لیکن ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 سال 8 ماہ سے کوششیں جاری تھیں۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق اتحاد کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ سعودی عرب میں جنرل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ تاہم عملی امور کی تفصیلات کمیٹی کے پہلے اجلاس میں طے کی جائیں گی۔
