وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا آغاز ہوگیا جس کے تحت موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار جبکہ کار والے 10 دن میں ایک بار سبسڈی حاصل کرسکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے اسلام آباد کے مختلف پیٹرول پمپس کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے شہریوں سے رجسٹریشن کے مسائل دریافت کیے۔
وفاقی وزیر نے شہریوں کو اہم اور درست رجسٹریشن کے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل صرف ایک بار ہی کیا جائے۔
اس موقع پروفاقی وزیر نے انتظامیہ کو رجسٹرڈ شہریوں کو بلا تعطل پیٹرول کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ سستا پیٹرول دینے میں ٹال مٹول یا انکار کرنے والے پمپس کی مانیٹرنگ کی جائیگی۔
رجسٹریشن کیسے کی جائے؟
وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کے حصول کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے جامع اور خودکار ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا ہے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے رجسٹریشن کا عمل مکمل کر سکیں گے۔
حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم کی رجسٹریشن کا مکمل طریقہ کار pmfuelrelief.pk پر دستیاب ہے۔

شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم سے مقررہ فارمیٹ کے مطابق ایس ایم ایس ارسال کرکے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، کامیاب رجسٹریشن کی صورت میں شہری کو تصدیقی جواب موصول ہوگا۔
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد فیول ٹوکن کے حصول کے لیے موبائل فون سے TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق درخواست کی تصدیق اور کامیابی کی صورت میں شہری کو موبائل فون پر فیول ٹوکن موصول ہوگا، جسے متعلقہ پٹرول پمپ پر دکھا کر تصدیق کے بعد رعایتی نرخ پر پٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی لاگت، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز و اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اس کے برعکس عالمی قیمتوں میں کمی یا روپے کی قدر میں بہتری کی صورت میں قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں اور بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے اخراجات کو متاثر کرتی ہیں۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چنگچی کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کم آمدنی اور روزمرہ سفر کے لیے ان گاڑیوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے لیے فوری ریلیف دینے کی کوشش ہے۔



