برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن روسی ڈرون حملے میں بال بال بچ گئے۔ حملہ پولینڈ کی سرحد کے قریب بورس جانسن اور دیگر اعلیٰ یورپی حکام کے اسی ریلوے روٹ سے گزرنے کے کچھ دیر بعد کیا گیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب بورس جانسن یوکرین کے دارالحکومت کیف سے پولینڈ جانے والی ٹرین میں سوار تھے۔ حملے کا مقام پولینڈ کی سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر دور بتایا گیا ہے، حملے کا نشانہ بننے والی ٹرین میں 206 افراد سوار تھے۔
یوکرینی ریلوے حکام کے مطابق پولینڈ کی سرحد پر واقع یاہودن اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کو ڈرون نے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس ٹرین کے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا جس میں بورس جانسن سفر کر رہے تھے۔ جانسن کی ٹرین کو حملے کے خدشے کے باعث مقررہ وقت سے پہلے روانہ کر دیا گیا تھا۔
بورس جانسن نے ایکس پر جاری بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کون سی بگڑی ہوئی منطق نے پیوٹن کو آج صبح پولینڈ کی سرحد پر کھڑی یوکرینی انجن کو تباہ کرنے پر اکسایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسی طرح کا بے مقصد اور بے معنی حملہ ہے جس کا یوکرینی عوام ہر روز سامنا کر رہے ہیں، حتیٰ کہ شہری ریلوے نظام بھی محفوظ نہیں۔
بورس جانسن کے مطابق اب تک پیوٹن کی کارروائیوں کے نتیجے میں یوکرین کی ریلوے کمپنی کے 1,700 ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں۔
I don’t know what warped logic drove Putin to blow up a stationary Ukrainian locomotive on the Polish border this morning. What we can say for sure is that this is the kind of random and senseless attack Ukrainians are enduring every day – even on civilian railways. So far Putin has been responsible for the deaths of 1700 staff of Ukrzaliznytsia – Ukrainian Railways. They and their daily passengers are absolutely heroic.
When are we going to give them the air defences they need? Why won’t we unfreeze Putin’s cash and give it to Ukraine? There is more than €140 billion in a Belgian bank account – and about £10 billion in London. Britain could show a lead.
The Ukrainians are going to win – that much was clear from the last three days in their wonderful country. But we will get this dreadful war over much faster if we all get serious and give them what they need and deserve.
— Boris Johnson (@BorisJohnson) September 13, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق بورس جانسن کے ساتھ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول، سویڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ، جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے قریبی مشیر گنٹر ساوٹر اور متعدد یورپی سفارت کار بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔
جرمن اخبار ڈیر اشپیگل کے مطابق یہ وفد یوکرینی حکومت کے ساتھ روس کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر بات چیت کے لیے کیف میں موجود تھا۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روسی حملے نیٹو اور یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کے مزید قریب پہنچ رہے ہیں۔ پیوٹن کی دہشتگردی یورپی یونین اور نیٹو کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
یوکرین کی ریلوے کمپنی یوکرزالیِزنیتسیا نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ممکن ہے ڈرون کا ہدف بورس جانسن کی ٹرین ہو۔
کمپنی کے مطابق مسلسل روسی حملوں کے خطرے کے باعث ٹرینوں کے نظام الاوقات میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، اسی وجہ سے جانسن کی ٹرین مقررہ وقت سے پہلے اسٹیشن سے روانہ ہو گئی تھی۔
واضح رہے روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا ، اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور کئی شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جولائی 2021 میں پہلی بار یوکرائن پر حملے کا عندیہ دیا تھا۔ پیوٹن نے لکھا تھا “یوکرین کی حقیقی خود مختاری صرف روس کے ساتھ شراکت میں ممکن ہے۔



