اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے رہنما برطانیہ سے علیحدگی اور آزادی کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کارڈف میں ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں تینوں خطوں کے فرسٹ منسٹرز ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں گے، جس میں آزادی کے ریفرنڈم کے انعقاد کے حق کا مطالبہ کیا جائے گا۔
اس اجلاس میں آئرلینڈ کی مرکزی اپوزیشن جماعت شِن فین کی رہنما میری لو میک ڈونلڈ بھی شریک ہوں گی۔ تینوں خطوں کے رہنما اپنے اپنے ممالک کے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانیہ کے آئینی مستقبل پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں آزادی کے حامی فرسٹ منسٹرز حکومت میں ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ صورتحال پائیدار نہیں۔
جان سوئنی نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس امکان کا سامنا کرنا ہوگا کہ تاریخ انہیں برطانیہ کا آخری وزیراعظم قرار دے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر اسکاٹ لینڈ میں آزادی کے لیے واضح عوامی اتفاق رائے سامنے آیا تو ایک اور آزادی ریفرنڈم کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متحدہ آئرلینڈ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئرلینڈ کو متحد دیکھنا پسند کریں گے اور شمالی آئرلینڈ کا جمہوریہ آئرلینڈ میں شامل ہونا ایک اچھی بات ہوگی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق مئی کے انتخابات کے بعد تینوں خودمختار خطوں میں پہلی مرتبہ آزادی کے حامی جماعتیں اقتدار میں ہیں، جس کے باعث برطانیہ کے اتحاد اور مستقبل کے آئینی ڈھانچے پر بحث مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
گڈ فرائیڈے معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ میں آئرلینڈ کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے ریفرنڈم کا راستہ بھی موجود ہے، تاہم اس کے لیے یہ امکان ظاہر ہونا ضروری ہے کہ شمالی آئرلینڈ کے عوام کی اکثریت برطانیہ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دے سکتی ہے۔


