واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوسکتی ہے اور جنگ کے باعث بلند ہونے والی تیل کی قیمتیں بھی انتخابات کے بعد تیزی سے نیچے آئیں گی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران زیادہ دیر تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں اور انہیں توقع ہے کہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہوجائے گی کیونکہ وہ مزید برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘
امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہوا ہے تاہم انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے جائیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
ایران سے مذاکرات کی گنجائش موجود ہے
ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ محض ایک روایتی جوہری معاہدہ نہیں چاہتے بلکہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جوہری پروگرام سے کہیں زیادہ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔
ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بارے میں امریکی مؤقف میں حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق مئی میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز آنے کے بعد حملہ روکنے اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔
🚨 NOW: President Trump announces the war in Iran will end immediately AFTER the 2026 midterms, saying Iran's whole game plan was to use the election as leverage
"The war's gonna end immediately after the election. Because they can't hold out any longer! They're desperate to try… pic.twitter.com/Lm5yw7BB6w
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) September 9, 2026
دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ برقرار ہے، برطانیہ نے رواں ہفتے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے لیے قانون سازی بھی شروع کی ہے، جس میں ایرانی مالیاتی نظام، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر پابندیاں شامل ہیں۔
تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز
ایران جنگ اور خلیج میں توانائی کی تنصیبات و جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ میں ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی تک رہ گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اسی تناظر میں برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے اہم انفرااسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا تو تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ٹرمپ اس کے برعکس جنگ کے خاتمے کے بعد قیمتوں میں تیز کمی کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔
یوں ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران جنگ کے خاتمے، تیل کی قیمتوں میں کمی، ایران کے ساتھ ممکنہ وسیع تر مذاکرات، اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں اور روس یوکرین جنگ کے لیے نئی ڈیل کو امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔



