اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صورتحال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 2018 میں پاکستان کی معیشت کو کاری ضرب لگائی گئی، جبکہ پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے تیل کی قیمتوں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی تو تیل کی قیمتیں بھی کم ہوجائیں گی اور حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر مشاورت کی جائے گی اور انہیں متعلقہ وزارتوں تک پہنچایا جائے گا۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تین روز بعد دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ حکومت ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ اچھی تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے اور ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ دھرنے مؤخر کردیئے جائیں۔ تاہم جماعت اسلامی کوئی ناجائز بات نہیں کر رہی بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کی بات کررہی ہے۔
انہوں نے عوام کو ریلیف سے متعلق کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومتی ٹیم کے سامنے 6 تجاویز رکھی ہیں، جن پر عملدرآمد سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے لیوی ختم کی جائے جبکہ غیرترقیاتی اخراجات میں بھی کمی کی جائے۔
لیاقت بلوچ نے مذاکرات سے متعلق واضح کیا کہ مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا، امید ہے اگلے مذاکراتی دور میں عوام کو ریلیف ملے گا۔ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم جماعت اسلامی نے مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ قیمتوں میں اضافے سے عوام مشکلات کا شکار ہیں، عوام کو ریلیف ملنے سے ہی معاشی پہیہ چلے گا۔




