اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بیٹے جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں۔ دونوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان آخری بار 2022 کو نائیکوپ پر پاکستان آئے تھے۔ اور وہ آج بھی پاکستان آسکتے ہیں ان کا بائیکوپ کارڈ اب بھی مؤثر ہے۔
نائیکوپ سے متعلق انہوں نے کہا کہ نائیکوپ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے انہیں بھی کسی ویزے کی ضرورت نہیں اور وہ جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے انہیں ویزا نہ دینے کا تاثر غلط ہے۔
بانی pti کے بچوں نے ان NICOP پہ آخری دفعہ 2022 میں پاکستان سفر کیا تھا۔ اور آج اگر چاہئیں تو پاکستان تشریف لا سکتے ھیں۔ دونوں NICOP valid ھیں ۔ فیملی یا pti کا یہ تاثر دینا کہ حکومت انکو ویزا نہیں دے رہی غلط ھے۔ NICOP کی موجودگی جب چاہیں پاکستان سفر کر سکتے ھیں۔ ویزا کی کوئی…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 30, 2026
خواجہ آصف نے کہا کہ سلیمان خان کا نائیکوپ 6 جنوری 2030 تک کارآمد ہے جبکہ قاسم خان کا نائیکوپ 8 نومبر 2032 تک قابل عمل ہے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے اس سے قبل بھی عمران خان کے بیٹوں کو ویزا نہ دینے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔
اس سے قبل بھی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان یہ کہہ چکی ہیں کہ عمران خان کے بچوں میں سے ایک کا نائیکوپ گم ہو گیا ہے اور دوسرے کو مل نہیں رہا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے کچھ دن قبل آن لائن بریفنگ میں کہا تھا کہ حکومت پاکستان کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر والد تندرست ہیں تو ان کا آزادانہ چیک اپ کروایا جائے۔ ثبوت دیں کہ ہمارے والد بالکل تندرست ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کو جیل سے باہر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ وہ اپنے والد کی رہائی اور انہیں مبینہ طور پر مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے معاملے پر مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں حکومتوں، ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں گے۔
قاسم خان نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکا میں پی ٹی آئی کے حامیوں سے بات کی ہے اور ان کی کوشش تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کی جائے، تاہم اس وقت ٹرمپ کے مفادات مختلف ہیں۔


