پاکستان میں صرف 2 فیصد خواتین زمین کی مالک نکلیں جبکہ ملک کی 67 فیصد ملازمت پیشہ خواتین زراعت سے وابستہ ہیں۔
سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے کیے گئے مطالعے کے مطابق پاکستان میں زرعی شعبے میں خواتین کی نمایاں شمولیت کے باوجود ان کی زمین کی ملکیت انتہائی محدود ہے۔
مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 67 فیصد ملازمت پیشہ خواتین زراعت کے شعبے میں کام کرتی ہیں، تاہم صرف 1.5 فیصد زرعی گھرانے سرکاری طور پر خواتین کے زیرِ سربراہی رجسٹرڈ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کی صرف تقریباً 2 فیصد ایسی خواتین جن کی کبھی شادی ہوئی، اکیلے یا مشترکہ طور پر زمین کی مالک ہیں، جبکہ 97.2 فیصد خواتین کو زمین یا گھر وراثت میں نہیں ملا۔
صوبہ سندھ میں خواتین کی زمین کی ملکیت کی صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں 99.1 فیصد خواتین کے پاس اکیلے یا مشترکہ طور پر کوئی زمین نہیں۔
مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو زمین کی ملکیت میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ مالی اور ڈیجیٹل شعبوں میں بھی نمایاں صنفی فرق کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 56 فیصد مردوں کے پاس مکمل سہولیات والا مالیاتی اکاؤنٹ موجود ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 14 فیصد ہے۔ اسی طرح موبائل والٹ رکھنے والے مردوں کی شرح 48 فیصد جبکہ خواتین میں صرف 11 فیصد ہے۔
خواتین کسانوں کو موسمیاتی خطرات کا سامنا
مطالعے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں خواتین کسانوں کے لیے مالی سہولیات کی ضرورت کو مزید اہم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران سروے میں شامل 10 میں سے 9 خواتین کسانوں کو کم از کم ایک شدید موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات میں ہیٹ ویو، سیلاب، شدید بارشیں اور خشک سالی جیسی صورتحال شامل تھی۔
80 فیصد سے زیادہ خواتین نے فصلوں کے نقصان یا زراعت پر منفی اثرات کی اطلاع دی۔
مطالعے کے مطابق موسمیاتی مشکلات سے نمٹنے کے لیے قرض لینا تقریباً تمام اضلاع میں پہلے یا دوسرے درجے کی عام حکمت عملیوں میں شامل رہا۔
خوشاب میں جن خواتین نے کسی بھی طرح کے بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی اطلاع دی، ان تمام خواتین نے رقم ادھار لی، جبکہ نصف سے زیادہ خواتین نے مویشی بھی فروخت کیے، جس سے مستقبل میں آمدن کے ذرائع متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً نصف آبادی فعال زرعی کارکنوں کے طور پر مناسب طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔
ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ دیہی معیشت، خصوصاً زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو مضبوط بنانا مجموعی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے جبکہ بڑے پیمانے پر صارفین کے ڈیٹا تک رسائی رکھنے والے مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری اس حوالے سے تحقیق کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ خواتین زرعی کام انجام دے رہی ہیں، موسمیاتی بحرانوں کے اثرات برداشت کر رہی ہیں اور پہلے ہی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لے رہی ہیں، تاہم رسمی مالیاتی نظام انہیں اسی حقیقت کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کررہا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں ہوتا ہے، اس لیے خواتین کسانوں کی مالی شمولیت کا معاملہ محض صنفی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کی زرعی لچک اور غذائی و معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
2022 کے سیلاب اور معاشی نقصان
مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اور معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں لچکدار تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر درکار ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
ایس ڈی پی آئی کے مطابق خواتین کسانوں کو درپیش مالی مشکلات میں کئی رکاوٹیں ساختی نوعیت کی ہیں۔ مالیاتی مصنوعات اکثر زمین کی ملکیت، ذاتی نقل و حرکت اور ڈیجیٹل رسائی کو بنیاد بنا کر تیار کی جاتی ہیں، جبکہ یہ عوامل خواتین کسانوں کی حقیقی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔
خواتین کے لیے موسمیاتی مالی سہولیات کی ضرورت
مطالعے کے نتائج میں خواتین کسانوں کے لیے زیادہ جامع اور موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنے والی مالیاتی سہولیات متعارف کرانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسی مالی سہولیات خواتین کو اپنے ذرائع معاش کو محفوظ رکھنے، موسمیاتی بحران کے بعد تیزی سے بحالی اور مستقبل کے خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ایس ڈی پی آئی کے مطالعے میں مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہنے کے بجائے صنفی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موسمیاتی مالیات کے لیے ایک عملی فریم ورک بھی پیش کیا گیا ہے۔
اس فریم ورک کے اثرات مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے لیے اہم قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین زرعی شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود زمین کی ملکیت، مالیاتی خدمات اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی میں پیچھے ہیں، جس کے باعث موسمیاتی بحرانوں سے پیدا ہونے والے نقصانات کا بوجھ بھی ان پر زیادہ اثرانداز ہوسکتا ہے۔


