یونان جانے کی کوشش میں ایران، ترکی کے درمیان مبینہ فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے سماہنی آزاد کشمیر کے نوجوان کی میت آبائی علاقے پہنچتے ہی کہرام مچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق یورپ جانے کی خواہش میں غیر قانونی راستے سے یونان جانے والے نوجوان محمد وحید کی میت آبائی علاقے چٹی باولی پہنچ گئی، میت گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا، اہل خانہ غم سے نڈھال ہوگئے۔
سماہنی کے رہائشی محمد وحید یونان جانے کی کوشش کے دوران ایران اور ترکی کے درمیان مبینہ طور پر فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے میں بھمبر سے تعلق رکھنے والا ایک اور نوجوان بھی جاں بحق جبکہ 3 نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
محمد وحید کی میت آبائی علاقے چٹی باولی پہنچنے پر گھر میں صف ماتم بچھ گئی، اہل خانہ اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال ہوگئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
مرحوم کے بھائی کے مطابق محمد وحید کو یونان پہنچانے کے لیے ایک ایجنٹ کے ساتھ 22 لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا تھا، جبکہ کچھ رقم ایڈوانس بھی دی جا چکی تھی۔
محمد وحید ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے والد تھے۔ ان کی اچانک موت نے اہل خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کردیا۔
واقعے کے بعد شرکائے جنازہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید خاندان اپنے پیاروں سے محروم نہ ہوں۔
واضح رہے ہر سال کئی پاکستانی غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔


