انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک اور ‘میجر سرجری’ کرتے ہوئے قومی کرکٹ اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں جس پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز پی سی بی نے لارڈز ٹیسٹ میں بدترین شکست کے بعد انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کردیا تھا جن میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں۔
ان کھلاڑیوں کی جگہ بیٹر صائم ایوب اور عبداللہ، اسپن بولر اور آل راؤنڈر عرفات منہاس، فاسٹ بولر محمد عمران جونیئر، وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ، آل راؤنڈرز محمد عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا کر مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکی کا تقرر کردیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں امام الحق آج ہی وطن واپس پہنچے جہاں انہیں لاہور ائیرپورٹ پر فیس ماسک اور گلاسز پہنے دیکھا گیا۔
محسن نقوی نے اڑھائی سال پہلے کرکٹ میں سرجری کی بات کی تھی
اس ڈاکٹر نے جس جس شعبے کی سرجری کی اسے موت کے گھاٹ اتار کر ہی دم لیا pic.twitter.com/FRyIeLSulQ— Waqar khan (@Waqarkhan) August 29, 2026
یہ ‘میجر سرجری‘ انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے 2 میچ بری طرح ہارنے کے بعد کی گئی جس پر پی سی بی کے فیصلوں پر سنجیدہ سوال اٹھ رہے ہیں۔
‘کھلاڑیوں نہیں پی سی بی کی اعلیٰ قیادت کو نکالیں’
کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے نکالے جانے پر سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ کیڑے مکوڑوں جیسا سلوک کرنے اور انہیں تضحیک کا نشانہ بنانے سے کچھ بہتر نہیں ہوگا۔
Treating national players like cockroaches and humiliating them will not make things better. They keep firing coaches & players and keep getting the same results. Try firing the top leadership of PCB. That’s where the problem is flowing from
— Asad Umar (@Asad_Umar) September 1, 2026
ان کا کہنا تھا کہ کوچز اور کھلاڑیوں کو بار بار فارغ کرنے کے باوجود نتائج وہی کے وہی ہیں۔ ایک بار پی سی بی کی اعلیٰ قیادت کو بھی ہٹا کر دیکھیں، کیونکہ مسئلے کی اصل جڑ وہیں ہے۔
Treating national players like cockroaches and humiliating them will not make things better. They keep firing coaches & players and keep getting the same results. Try firing the top leadership of PCB. That’s where the problem is flowing from
— Asad Umar (@Asad_Umar) September 1, 2026
سابق کپتان شاہد آفریدی نے اس فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس تبدیلی کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی20 کھلاڑیوں کو کیوں شامل کیا گیا اور ہیڈ کوچ کو صرف 5 ٹیسٹ میچوں کے بعد کیوں ہٹایا گیا۔
Not sure what is the logic or reasoning behind this decision! Even the replacements make no sense – T20 players have been included for a Test match in England? What is this thinking and approach? Why has the coach been axed after 5 Test matches? This is the most shocking decision…
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) August 31, 2026
شاہد آفریدی نے اسے ایسی سلیکشن کمیٹی کا انتہائی حیران کن فیصلہ قرار دیا جس میں کئی تجربہ کار سلیکٹرز شامل ہیں۔
سابق پاکستانی کوچ مکی آرتھر نے فیصلوں کو ‘انتہائی مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز میں مسلسل تبدیلیاں ہی پاکستان کرکٹ کے بدستور انتشار کا سبب ہیں۔ ان کے مطابق مستقل مزاجی اور مضبوط ڈھانچہ ہی مسلسل اچھی کارکردگی کی بنیاد بنتا ہے۔
Absolutely ridiculous decisions by the PCB-this is the reason they are in the mess they are because they constantly chop and change players,coaches and selectors and there in no stability!
Planning,stability and structure =Consistent performance!! https://t.co/LQzN94hf0Z— Mickey Arthur (@Mickeyarthurcr1) August 31, 2026
معروف بھارتی کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے بھی تبدیلیوں کے وقت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان علی آغا نے پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کی، دوسرے ٹیسٹ میں انہیں ڈراپ کردیا گیا اور تیسرے ٹیسٹ سے قبل وطن واپس بھیج دیا گیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سیریز کے دوران ہیڈ کوچ اور باؤلنگ کوچ بھی تبدیل ہوگئے جبکہ سینئر وکٹ کیپر کو بھی واپس بھیج دیا گیا۔ ہرشا بھوگلے نے سوال اٹھایا کہ نئے کھلاڑی اور کوچ بروقت ویزے حاصل کرکے میچ کے لیے تیار بھی ہو سکیں گے یا نہیں۔
Trust Pakistan cricket to do the unbelievable. Salman Agha, captain in the first test, dropped from the second, sent home before the third! Coach and bowling coach gone midway through a series. Senior keeper sent home. Replacements hoping to get visas in time, let alone be ready…
— Harsha Bhogle (@bhogleharsha) August 31, 2026
سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے اشارتاً کہا کہ پاکستانی کرکٹ کے زوال کی وجہ سنجیدہ فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سنجیدہ فیصلہ سازی کا عمل ‘پارٹ ٹائم جاب’ بن جائے تو سمجھیں زوال شروع ہو گیا۔
The downfall began when serious decision-making became a part-time job, and the circus replaced the system !!
🤡 🎪— Muhammad Wasim (@MuhammadWasim77) August 31, 2026
سابق انگلش بلے باز کیون پیٹرسن نے بھی تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، کیا واقعی پاکستان نے سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا ہے۔
What on this might planet am I reading about Pakistan making all these changes and sending players home etc…
It can’t be real?! Surely?!
— Kevin Pietersen🦏 (@KP24) August 31, 2026
سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تجزیہ کار بازید خان نے کہا کہ سیریز کے دوران ٹیم میں اس نوعیت کی تبدیلی پاکستان کرکٹ کے اپنے معیار کے لحاظ سے بھی انتہائی قدم ہے، جبکہ عثمان سمیع الدین نے ان اقدامات کو ٹیم کے لیے باعثِ شرمندگی قرار دیا۔
An overhaul mid series. Even by Pakistan standards this is ultra pro max
— Bazid Khan (@bazidkhan81) August 31, 2026
واضح رہے کہ پی سی بی نے اسکواڈ سے فارغ کیے گئے کھلاڑیوں کی جگہ 5 ایسے کرکٹرز کو شامل کیا ہے جنہوں نے ابھی تک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا، جبکہ 2 کھلاڑی محدود ٹیسٹ تجربہ رکھتے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہوگا۔
