اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز (پمز) اسپتال کے گزشتہ 3 سال کے مالیاتی بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران پمز اسپتال کو مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال پمز ہسپتال کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم اسپتال انتظامیہ نے مختص رقم کے مقابلے میں 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے، جو مختص بجٹ سے 67 کروڑ روپے زیادہ بنتے ہیں۔
گزشتہ سال پمز اسپتال انتظامیہ نے 66 کروڑ روپے اضافی بجٹ بھی وصول کیا۔ جبکہ رواں مالی سال پمز اسپتال کے لیے 7 ارب 63 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
آگ پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقعہ نیونیٹل وارڈ (نومولود کی انتہائی نگہداشت کا شعبہ) میں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر لگی۔
ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ پمز نرسری میں لگی آگ بجھا لی گئی، ضلعی انتظامیہ کے مطابق فائر فائٹرز اور 6 ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور خواتین سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پمز اسپتال پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے چیف کمشنر کو امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ کمپریسر پھٹنے کی وجہ سے لگی۔
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سی ٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی کے ٹی او آرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں اور کمیٹی سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کرنے کے ساتھ اسپتال میں موجود سیفٹی انتظامات کا جائزہ لے گی۔ انکوائری کمیٹی ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔


