بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے 19اگست کو ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے سوال پر تحریری جواب پیش کیا جس کے مطابق مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 33 پنشنرز بیرونِ ملک مقیم ہیں، بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پنشنرز کی تقرری 2 جنوری 1959 سے پہلے ہوئی تھی، پنشنرز کی پنشن دیگر ملازمین کی طرح اے جی پی آر کی جانب سے پاکستانی روپے میں کی جاتی ہے، پاکستانی مشنز کے توسط سے چیف اکاؤنٹ آفیسر بینک میں غیر ملکی کرنسی منتقل کرتے ہیں۔
پنشنرز کی پنشن کو ڈالر پروٹیکشن حاصل نہیں ہے، روپے کی قدر میں کمی سے زرِ مبادلہ کا نقصان حکومت نہیں بلکہ پنشنر خود برداشت کرتا ہے،33پنشنرز مختلف وزارتوں، محکموں اور دفاتر سے تعلق رکھتے ہیں۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ روپے میں پنشن لینے والے بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کی معلومات اے جی پی آر کے پاس نہیں ،بیرونِ ملک منتقلی سے متعلق اے جی پی آر کو اطلاع دینا پنشنرز پر قانونی طور پر لازم نہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پنشنرز صرف پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی شرط پوری کرتے ہیں، اے جی پی آر کے پاس پنشنرز کی رہائش گاہ معلوم اور تصدیق کرنے کا طریقہ موجود نہیں ہے ۔
وزارت خزانہ کے مطابق 2021سے اب تک 33 پنشنرز کو 34 کروڑ 21 لاکھ 9 ہزار 614 روپے کی غیر ملکی کرنسی ادا کی گئی، واشنگٹن 11، نیویارک 10 اور اٹاوا میں 4 پنشنرز کو ادائیگی کی جا رہی ہے، اسی طرح ہوسٹن، ویانا، ٹورنٹو، لندن، وینکور، کینبرا اور اسٹاک ہوم میں پنشنر کو ادائیگی کی جا رہی ہے۔


