جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ “جو لوگ قوتوں کے ساتھ مل کر رجیم چینج میں ملوث رہے انکو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے”
مال روڈ لاہور دھرنے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ “حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے معاملہ پر کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرنا چاہیئے تھا ، بانی پی ٹی ۤآئی کی صحت کے حوالے سے تمام مسائل کو حل کرنا چاہیئے”
انہوں نے کہا کہ چینی ،آئل ، آٹا مافیا کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کر سکتا ، عوام نکل کر ہماری جدوجہد کا حصہ بنیں۔ہماری تحریک اور دھرنے جاری رہیں گے ، پٹرولیم لیوی کے معاملے پر 12 ربیع الاول کے بعد ہڑتال کریں گے۔ اور پورے ملک میں پہیہ جام کریں گے۔ حکومت اب مزید عوام کا دباؤ برداشت نہیں کر سکے گی۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ لیوی کا بھتہ ٹیکس کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے، حکومت کو پٹرول کی قیمتیں کم کرنا پڑیں گی ، اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو اسلام آباد کی طرف بھی مارچ کریں گے ، یہ ہمیں روک نہیں سکیں گے، ہمارا کوئی کارکن قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بات سامنے آئی کہ لوکل ڈیزل کو امپورٹڈ کے ریٹ میں فروخت کرکے عوام کو لوٹا جا رہا تھا۔پیٹرولیم منصوعات پرچند لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں ، غریب آدمی لیوی ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ حکومت کی کمیٹیوں پر اعتراض نہیں مگر وہ تیل کی قیمت کم کرنے کا طریقہ بتائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ دھرنا ہو رہا ہے تو پیٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے، ایسے سوال کرکے آپ حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں، اگر یہ احتجاج نہ ہو رہا ہوتا تو ڈیزل کی قیمت میں تیس سے بتیس روپے کم نہ ہوتے، ان کو روکنے کا طریقہ احتجاج ہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہمارے پیسوں سے سرکاری افسران بڑی بڑی گاڑیاں چلاتے ہیں، پنجاب میں زراعت تباہ ہو گئی ہے ، کپاس کی فصل گزشتہ سال کی نسبت پچاس فیصد کم پیدا ہوئی ہے۔ کسانوں کو سستی کھاد نہیں مل رہی۔



