لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول لیوی اور ٹیکسوں کا بھاری بوجھ عائد کر رکھا ہے، ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 130 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کر رہی ہے، لاہور کے زندہ دلان، پشاور اور کراچی میں جاری دھرنوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے باعث حکومت میں ہلچل مچ چکی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران طبقے نے عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 80 سے 90 فیصد ایسے لوگ ہیں جن کی آمدنی پر انکم ٹیکس واجب ہی نہیں ہوتا، لیکن حکومت نے ان پر بھی پیٹرول لیوی کا بوجھ ڈال رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ میرٹ پر مبنی ہے، پی ٹی آئی نے بہت دیر کردی، رانا ثنااللہ
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 80 سے 85 روپے لیوی عائد ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 130 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے عوام پر عائد اضافی بوجھ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کو تین دن ہو چکے ہیں اور یہ احتجاج حکمرانوں کے لیے ایک مؤثر ضرب ثابت ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور حکمرانوں کو عوام کے مطالبات سننا ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دو سال قبل جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاملے کو ملک بھر میں بے نقاب کیا تھا۔ ان کے بقول جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کی جانب سے قومی خزانے اور عوام کی جیبوں پر پڑنے والے بوجھ کی نشاندہی دلیل اور شواہد کے ساتھ کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی عمل چلتا رہتا ہے اور سیاسی جماعتیں مسائل پر بات بھی کرتی ہیں، تاہم جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جاری تحریک کا مقصد عوام کو ریلیف دلانا اور حکمران طبقے کو عوامی مسائل کے حل پر مجبور کرنا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عوامی حقوق کے لیے جماعت اسلامی کی تاریخی جدوجہد جاری ہے، پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، آئی پی پیز اور حکمرانوں کی مراعات کے خلاف 16 اگست سے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں احتجاجی دھرنوں کا آغاز کیا تھا۔ لاہور میں دھرنا فیصل چوک، مال روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور پٹرول کی قیمت میں کمی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے جبکہ روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقے کے اخراجات اور حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دو سال قبل آئی پی پیز کے معاملے کو بھی ملک بھر میں اجاگر کیا تھا اور قوم کی جیبوں پر پڑنے والے بوجھ کے خلاف دلیل کے ساتھ آواز اٹھائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک بھی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ مہنگائی، عوام دشمن پالیسیوں اور ظلم کے خلاف ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا معاملہ، حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ
واضح رہے کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھرنے جاری ہیں اور جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی احتجاج میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جاسکے۔
