کراچی: وکیل جبران ناصر نے تحقیقات اور شواہد سے متعلق اہم مطالبات کردیے۔
مقتول میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ میر رضا کے والدین اور بہن نے ان افراد کے نام پولیس کو دیے ہیں جن کے پاس کیس سے متعلق اہم معلومات ہوسکتی ہیں، تاہم خاندان نے کسی بھی شخص کے لیے شک یا الزام کا اظہار نہیں کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کا قتل ایک اندھا قتل ہے اور اہلخانہ کسی فرد پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احمد سمیت دیگر دوستوں کے نام صرف معلومات کے حصول کے لیے دیے گئے ہیں اور پولیس نے بھی اب تک احمد کو کسی دستاویز میں ملزم قرار نہیں دیا۔
جبران ناصر کے مطابق نئی تفتیشی ٹیم کی تحقیقات میڈیکل شواہد کے برخلاف نہیں جا رہیں اور ٹیم تمام متعلقہ ایس او پیز کے مطابق کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کی بنیادی خواہش قاتلوں کی شناخت اور گرفتاری ہے نہ کہ کسی مخصوص شخص کو تفتیش میں نامزد کرنا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیو فینسنگ کے نتائج درست انداز میں حاصل کیے جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائی جائے اور تمام ممکنہ فرانزک شواہد کا جائزہ لیا جائے۔
جبران ناصر نے میر رضا کے دوستوں سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کسی دوست کو واقعے سے متعلق کوئی بات معلوم ہو یا کوئی اہم تفصیل یاد آجائے، ان کے بقول یہ میر رضا کے دوستوں پر قرض ہے کہ وہ تفتیش میں ہر ممکن تعاون کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرائم سین ٹیم بروقت موقع پر نہیں پہنچی اور جائے وقوعہ کو آگ لگائی گئی، جس سے ممکنہ ڈی این اے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے لیے کراچی کے نوجوان احتجاج کر رہے ہیں تاہم مقتول کے والدین نے کسی احتجاج کی کال نہیں دی۔ ان کے مطابق والدین احتجاج میں شرکت کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کا شکریہ ادا کرنے جاتے ہیں۔
میر رضا کیس، مقتول کے بزنس پارٹنر کی عبوری ضمانت منظور
وکیل نے واضح کیا کہ اہلخانہ کے سوالات کا مقصد تحقیقاتی ٹیم کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں بلکہ اصل قاتلوں تک پہنچنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ خاندان چاہتا ہے کہ قاتل کو زندہ گرفتار کیا جائے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی شخص کو قاتل قرار دے کر مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا جائے۔
