آبنائے ہرمز میں دو مزید بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے، جبکہ امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے اور بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی دھمکی دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ریاستی ملکیتی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملوں کا نشانہ بنے۔ امارات نے حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
شپ ٹریکنگ کمپنی کیلپر کے مطابق آج صرف 9 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 5 تھی۔ جنگ سے قبل روزانہ 130 سے زائد جہاز اس اہم آبی راستے سے گزرتے تھے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر خطے میں موجود بحری جہاز تبدیل کیے جاتے رہیں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے ایسے اقدامات سامنے آئیں گے جو ان کے بقول کسی ملک کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں غیر معمولی ہوں گے۔
یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے واپس کرنے سمیت متعدد شرائط عائد کر رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی نے بھی آبنائے سے امریکی، اسرائیلی اور دیگر ’دشمن‘ ممالک کے اثاثوں اور سازوسامان کی آمدورفت پر پابندی کی تجویز منظور کی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی تھی۔
بحری آمدورفت میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ تنازع طول پکڑنے کی صورت میں عالمی اقتصادی ترقی متاثر اور بعض خطوں میں کساد بازاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
