امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انکی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ لیویٹ اپنے کم عمر بچوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔
انہوں نے لیویٹ کو اپنے ”انتہائی قابل اعتماد معاونین“ میں شامل قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کے فیصلے کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ لیویٹ آئندہ بھی ان کی اعلیٰ سطح کی بیرونی مشیر کے طور پر کام کریں گی اور ریپبلکن پارٹی میں ایک بااثر آواز رہیں گی۔
We’re going to miss Karoline! https://t.co/FCxIgCnlBl
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 12, 2026
28 سالہ لیویٹ نے گزشتہ سال وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا اور وہ اس منصب پر فائز ہونے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت ہیں۔ ان کی جگہ کون لے گا، اس بارے میں فوری طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
لیویٹ نے صدر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کی حیثیت سے کام کرنا ان کی زندگی کا ”سب سے بڑا اعزاز اور مہم جوئی“ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماں بننے اور دنیا کی مشکل ترین ملازمتوں میں سے ایک کے دوران اپنے دوسرے بچے کی پیدائش ان کی زندگی کا سب سے خوشگوار لیکن مشکل دور رہا۔
لیویٹ نے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس واپس آنے پر انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنے دو کم عمر بچوں کے لیے بہترین ماں کا کردار ادا نہیں کر سکتیں اور ساتھ ہی پریس سیکریٹری کے منصب کے لیے درکار مسلسل وقت، توانائی اور توجہ بھی نہیں دے سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی احساس کے تحت انہوں نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے اور زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Serving as the White House Press Secretary over the past year and a half has been the honor and adventure of a lifetime. I am incredibly grateful to President Trump for granting me so many extraordinary opportunities, such as working in the West Wing and spending countless hours… https://t.co/4jyW61DGGh pic.twitter.com/xny1yccuBn
— Karoline Leavitt (@karolineleavitt) August 12, 2026
لیویٹ نے اور ان کے شوہر نکولس ریکیو کے ہاں رواں سال مئی میں دوسری بیٹی کا جنم ہوا تھا۔ ان کا ایک دو سالہ بیٹا بھی ہے۔ وہ زچگی کی چھٹی کے بعد گزشتہ ماہ ہی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے وائٹ ہاؤس پہنچی تھیں۔
ٹرمپ کے ساتھ لیویٹ کا تعلق ان کے موجودہ عہدے سے کہیں پہلے کا ہے۔ وہ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اور تقریر نویس کے طور پر کام کر چکی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں اپنے دور کے دوران لیویٹ کا میڈیا کے ساتھ تعلق اکثر کشیدہ رہا۔ وہ متعدد مواقع پر بعض صحافیوں پر جانبداری اور بائیں بازو کی حمایت کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔
گزشتہ سال فروری میں ان کے دفتر نے وائٹ ہاؤس کے پریس پول کا انتظام وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن سے واپس لے لیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں میڈیا کے لیے طویل عرصے سے جاری انتظامی طریقہ کار میں تبدیلی آئی۔
لیویٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا، جس کے باعث صدر کے حامی حلقوں میں انہیں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
وہ ٹرمپ کی دونوں حکومتوں کے دوران دوسری سب سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دینے والی پریس سیکریٹری ہیں۔ ان سے زیادہ عرصہ اس عہدے پر صرف سارہ ہکابی سینڈرز رہی ہیں۔
