امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے مذاکرات میں تعطل کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 88.09 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 82.52 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جو کہ 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے مہنگے ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جو کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اب روزانہ کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان ہو گیا
یاد رہے کہ گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس کی وجہ ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے کے لیے پیش کی گئی ایرانی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات سامنے لانا ہے۔ ٹرمپ نے ایران سے جنگوں، حملوں اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق تیل کی قیمتیں مذاکرات میں تعطل کے دوران 75 سے 95 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔
ادھر آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے منگل کو مسلسل دوسری میٹنگ میں شرح سود 4.35 فیصد پر برقرار رکھی، تاہم خبردار کیا کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے ضرورت پڑنے پر دوبارہ شرح سود بڑھائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک اسٹاکس کا وسیع انڈیکس 0.36 فیصد اوپر رہا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.3 فیصد بڑھ گیا۔ اسی طرح ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.6 فیصد اور چین کا سی ایس آئی 300 انڈیکس 0.05 فیصد نیچے آیا۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی عالمی مارکیٹوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا نے چھ بڑے مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر اے آئی انفرااسٹرکچر کے لیے 500 ارب ڈالر سے زائد کا نجی سرمایہ اکٹھا کرنے کے مقصد سے فنانسنگ پلیٹ فارمز شروع کرنے کا اعلان کیا۔
کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین دوبارہ دباؤ میں آیا اور ایک ڈالر کے مقابلے میں 159 کی سطح سے کمزور رہا۔
