جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان، ترکیہ، اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکہ مکرمہ دفاعی معاہدے میں ایران سمیت دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں المرکز الاسلامی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ “ہمارا اس میں کہنا یہ کہ اب فوری طور پر کوشش ہونی چاہیے کہ اب ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قطر، بنگلہ دیش، انڈونیشیا کو بھی دفاعی معاہدے میں شامل کیا جائے جس سے مسلم ممالک اشتراک قائم ہوگا اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمار ایک طاقتور نیٹ ورک بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، امن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ اس لیے ملوث ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ماحول بن گیا ہے، روزگار ہوگا تو کوئی نوجوان دہشت گردی کی طرف کیوں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوا جس سے امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔
ان کا کہا تھا کہ افغان بارڈر پر تجارت ختم ہونے سے عام شہریوں اور تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے، مسائل کے حل کے لیے افغان حکومت کے ساتھ ٹھوس مذاکرات ضروری ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
نئے صوبوں کے قیام کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں نئے صوبے بنانے کی کئی مثالیں موجود ہیں، ترکیہ میں 81 صوبے ہیں، لیکن اس کا طریقہ آئینِ پاکستان میں وضع کر دیا گیا ہے، پنجاب نے نئے صوبے بنانے کی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں، یہ فیصلے عوام کی مرضی کے مطابق ہونے والے ہیں۔
کشمیر میں جاری صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤقف اس معاملے پر بڑا واضح ہے کہ یہ مسئلہ طاقت کے استعمال سے بگڑ گیا ہے اور مزید بگڑے گا۔ ہم نے بات چیت بڑھانے کی کوشش کی مگر حکومت کی جانب سے کوئی ریسپانس نہیں آیا۔
ان کے مطابق ایسے مسئلے “حکومت کی ناعاقبت اندیشی” اور “مختلف اداروں کے” ان آفیسرز کی وجہ سے بگڑتے ہیں جو تین سال کے لیے آتے ہیں اور ہر چیز کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور “فکس کرنے” کی کوشش کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے، مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔
