جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان، ترکیہ، اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکہ مکرمہ دفاعی معاہدے میں ایران سمیت دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں المرکز الاسلامی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ “ہمارا اس میں کہنا یہ کہ اب فوری طور پر کوشش ہونی چاہیے کہ اب ایران بھی اس میں شامل ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قطر، بنگلہ دیش، انڈونیشیا کو بھی دفاعی معاہدے میں شامل کیا جائے جس سے مسلم ممالک اشتراک قائم ہوگا اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمار ایک طاقتور نیٹ ورک بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، امن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ اس لیے ملوث ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ماحول بن گیا ہے، روزگار ہوگا تو کوئی نوجوان دہشت گردی کی طرف کیوں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوا جس سے امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔
ان کا کہا تھا کہ افغان بارڈر پر تجارت ختم ہونے سے عام شہریوں اور تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے، مسائل کے حل کے لیے افغان حکومت کے ساتھ ٹھوس مذاکرات ضروری ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، دیرپا امن کے لیے بارڈر ٹریڈ زون قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے، اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سعودی عرب اور دیگر ممالک کی معاونت حاصل کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام مہنگائی کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل مایوس کن ہے، دیگر ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ معمول پر آ گئی ہیں جبکہ ہماری حکومت نے جنگ کو آمدن کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 225 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت نااہلی اور کرپشن کا بدترین امتزاج ہے، کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر بجلی پیدا نہ کرنے والے آئی پی پیز کو اربوں روپے دیے جا رہے ہیں، جبکہ اندھا دھند لیوی وصول کی جارہی ہے جو کرپشن چھپانے کے علاوہ کچھ نہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ 7 اگست کو ایک پرامن سیاسی تحریک کا باب رقم ہوا، پورے ملک میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے، منظم لوگ ہی انقلاب لا سکتے ہیں جس کی سمت ہم نے متعین کر دی ہے۔
16 اگست کو چاروں صوبوں میں دھرنے دیں گے
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں میں احتجاجی دھرنے دیں گے، پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے ہوں گے، ہمارا ایجنڈا ایک ہی ہے، مہنگائی ختم کرو، بجلی سستی کرو اور پٹرول پر لیوی ختم کرو۔
نئے صوبوں کے قیام کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں نئے صوبے بنانے کی کئی مثالیں موجود ہیں، ترکیہ میں 81 صوبے ہیں، لیکن اس کا طریقہ آئینِ پاکستان میں وضع کر دیا گیا ہے، پنجاب نے نئے صوبے بنانے کی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں، یہ فیصلے عوام کی مرضی کے مطابق ہونے والے ہیں۔
کشمیر میں جاری صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤقف اس معاملے پر بڑا واضح ہے کہ یہ مسئلہ طاقت کے استعمال سے بگڑ گیا ہے اور مزید بگڑے گا۔ ہم نے بات چیت بڑھانے کی کوشش کی مگر حکومت کی جانب سے کوئی ریسپانس نہیں آیا۔
ان کے مطابق ایسے مسئلے “حکومت کی ناعاقبت اندیشی” اور “مختلف اداروں کے” ان آفیسرز کی وجہ سے بگڑتے ہیں جو تین سال کے لیے آتے ہیں اور ہر چیز کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور “فکس کرنے” کی کوشش کرتے ہیں۔
