کراچی : میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سنگین اعتراضات سامنے آ گئے، پولیس سرجن نے 14 خامیوں کی نشاندہی کر دی۔
میر رضا علی کی لاش ملنے کے کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کی جانب سے ایس ایس پی ایسٹ کو لکھا گیا خط منظرعام پر آ گیا ہے، جس میں پوسٹ مارٹم کے عمل میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پولیس سرجن نے 3 اگست کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ لاش کے ایکس رے نہیں کیے گئے، جبکہ گن پاؤڈر کے تجزیے کے لیے ہاتھوں سے نمونے بھی حاصل نہیں کیے گئے۔ خط کے مطابق انٹری زخم پر موجود بارود کے ذرات کا کیمیائی تجزیہ بھی نہیں کیا گیا۔
Mayor Karachi @murtazawahab1 was briefed on key developments in the investigation into the murder of young trader Mir Raza. The Joint Investigation Team, led by Additional IG Azad Khan and formed on the directives of the Sindh Government, shared the latest progress in the case. pic.twitter.com/EKNsTJFZAE
— Kashif Raza Banbhan (Advocate) (@banbhan_raza) August 5, 2026
خط میں مزید کہا گیا کہ کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ نہیں کیا گیا، زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر لی گئیں۔
پولیس سرجن کے مطابق رپورٹ میں انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں کے نشانات کے مطابق وضاحت موجود نہیں، گولی کے راستے کی تشریح بھی شامل نہیں کی گئی، جبکہ انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے نمایاں بڑا درج کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ کپڑوں پر موجود سوراخوں کی سمت، جسم کے مختلف حصوں کی حالت اور لاش کے گلنے سڑنے (ڈی کمپوزیشن) کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔ مزید برآں، چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل نہیں کیے گئے۔
پولیس سرجن نے لکھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کئی سوالات کے جواب دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کر رہی ہے، اس لیے اس حساس نوعیت کے کیس کے تمام پہلوؤں کی منطقی اور سائنسی بنیادوں پر دوبارہ جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخموں کی واضح تصاویر رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔
موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، حکومت اپنی آئینی مدت یعنی پانچ سال مکمل کرے گی، وزیر داخلہ
خط میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ پولیس کے متعلقہ افسران سے متعدد بار گروپ اور نجی واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
