حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی دعوت دے دی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لے، حکومتی موقف ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ جگہ پر بھی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی مسائل کا واحد حل بامقصد مذاکرات ہیں اور تمام فریقین کو قومی مفاد میں بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور و چیف وہپ طارق فضل چوہدری اور رکن قومی اسمبلی و چیف وہپ حزب اختلاف ملک محمد عامر ڈوگر کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات۔
ملاقات میں قومی اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔… pic.twitter.com/x3anYA3EVt
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) August 6, 2026
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے بھی اس موقع پر کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ مسائل کا دیرپا حل بامقصد مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کی دعوت کا ابھی تک جواب نہیں آیا، توقع ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی دعوت کو سنجیدہ لے گی۔
یاد رہے کہ جنوری 2026ء میں پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے حکومت سے مذاکرات کو ایک بار پھر عمران خان کی مشاورت سے جوڑ ا تھا۔
ایک انٹرویو میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، کیا نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کچھ فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ ناسمجھی ہو گی کہ عمران خان سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو ، مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے۔
الزامات مسترد ، بھارت کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ، دفتر خارجہ
ان کا کہنا تھا کہ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق انہوں نے کہا کہ بل میں صوبے کے اختیار سے تجاوز نہیں ہو گا، اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے توہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔
