عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ۔ جس کے بعد قیمتیں 13 جولائی کے بعد کم ترین سطح پر بند ہوئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 6.35 ڈالر کمی کے بعد 83.77 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4.33 ڈالر سستا ہو کر 80.34 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی محکمہ توانائی کے جاری کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر 1983 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہو گئی، پیٹرول و ڈیزل سستا ہونے کا امکان
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر سے 172 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی منظوری کے بعد سامنے آئی۔
عالمی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھل گئی تو خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر تیزی سے آ جائیں گی۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپیک پلس کے 7 بنیادی رکن ممالک سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان نے ستمبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر کا تیل کمپنیوں سے قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ
اس فیصلے کے ساتھ ہی 2023 میں طے پانے والی 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رضاکارانہ کٹوتی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے کا آخری مرحلہ ہے، اس وقت متحدہ عرب امارات بھی اس گروپ کا حصہ تھا تاہم وہ مئی میں اوپیک سے علیحدہ ہو چکا ہے۔
