سندھ میں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ مزید صوبوں کے قیام کا فیصلہ کرنا کسی اور کا نہیں بلکہ عوام کا اختیار ہے اور سندھ کی عوام سندھ میں مزید صوبے نہیں چاہتی، یہ مطالبہ پنجاب کی عوام کا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی عوام نیا صوبہ نہیں چاہتی، ہم نے نئے صوبے کے خلاف قراردادیں منظور کی ہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے جنہوں نے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے پہلے سینیٹ آف پاکستان اور پھر پنجاب اسمبلی میں “پنجاب میں ایک نہیں بلکہ دو صوبے بنانے” کے حق میں قراردادیں دو تہائی اکثریت سے منظور کرائیں۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “موجودہ نظام ڈھ چکا ہے” اور اس پھر اس کے حل کے لیے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی بات کی تھی۔
پاکستان میں نئے صوبے کیسے بن سکتے ہیں، آئین کیا کہتا ہے؟
ان کے اس بیان کے بعد ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام کے حق اور مخالفت میں بحث زور پکڑ چکی ہے جس میں سیاسی جماعتیں اور رہنما بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
سعید غنی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ صوبے بنانے کا اختیار پیپلزپارٹی یا ن لیگ کے پاس نہیں ہے، نیا صوبہ بنانے کیلئے صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرانا ضروری ہے، اور اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دوتہائی اکثریت کی منظوری لازمی ہے۔
انہوں نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہ پنجاب میں بیٹھ کر سندھ میں صوبے بنانے کی بات نہیں کی جا سکتی، یہ عوام کا اختیار ہے، اور پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے،جبکہ عوام سندھ میں نیا صوبہ نہیں چاہتی۔
سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے اور پنجاب کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبوں سے متعلق بات کرتی ہے، پنجاب کی عوام نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہے، لہذا انہیں چاییے کہ سندھ کے بجائے پنجاب کی عوام کی سنیں۔
نئے صوبے بننے چاہئیں، کوئی مضائقہ نہیں، خواجہ آصف
پیپلز پارٹی کے رہنما نے مسلم لیگ ن پر تنقید کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، انہوں نے 80 کی دہائی سے 2024 تک، تمام انتخابات میں دھاندلی کی۔ اس کے برعکس پی پی نے کبھی دھاندلی سے اقتدار نہیں ہتھیایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہمناؤں نے جمہوریت کے لیے جانوں کی قربانی دی لیکن کسی آمر کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا، بھٹو اگر چاہتے تو جنرل ضیا کیساتھ معاہدہ کرلیتے جیسے نواز شریف نے جنرل مشرف کیساتھ کیا اور 10 سال تک اس معاہدے کی پاسداری بھی۔
پنجاب اور سندھ حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا کہن تھا کہ پنجاب کے وزرا کو سندھ میں ہونیوالے ترقیاتی کاموں کاعلم نہیں، پنجاب کے وزرا کراچی آئیں ہم بتائیں گے کہ شعبہ صحت میں کیا کچھ کیا، پنجاب کےایک لاکھ19ہزارمریضوں نےسندھ کے اسپتالوں سے علاج کرایا، ایس آئی یو ٹی ایک بڑا ادارہ ہے سندھ حکومت اس کی بہت زیادہ سپورٹ کرتی ہے اور جہاں سے پنجاب کے ساڑھے 28ہزار مریضوں نے علاج کرایا ہے۔
انہوں نے دونوں صوبوں کے اخراجات اور ترقیاتی بجٹ کا بھی موازنہ کیا اور دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے اپنے اخراجات کے بجائے ترقیاتی بجٹ بڑھایا جبکہ پنجاب حکومت نے اس کے برعکس کیا۔
سعید غنی نے پنجاب حکومت کے اپنا گھر اسکیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہ اس میں صرف گھر بنانے کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، پلاٹ اور مالکانہ حقوق نہیں دیے جاتے، جبکہ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھر بنانے کا فیصلہ کیا جن میں سے 12 لاکھ تیار بھی ہو گئے اور ان کے زمین سمیت تمام مالکانہ حقوق گھر کی خاتون سربراہ کو دیے جائیں گے۔
