برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے پہلے مسلمان میئر صادق خان کو ہاؤس آف لارڈز کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے، جس سے وہ پارلیمان کے ایوانِ بالا کا حصہ بن گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے 26 نئے ارکان کی تقرری کی منظوری دی، جن میں صادق خان بھی شامل ہیں۔ یہ تقرریاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب اسٹارمر آئندہ ہفتے اپنی ذمہ داریاں اینڈی برنہم کے حوالے کرنے والے ہیں۔
ہاؤس آف لارڈز برطانوی پارلیمان کا ایوانِ بالا ہے، جہاں ارکان قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں اور ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) سے منظور ہونے والے قوانین کا جائزہ لیتے ہیں۔
صادق خان اپنے موجودہ عہدے، یعنی میئر لندن، پر بھی برقرار رہیں گے۔ ان کی ہاؤس آف لارڈز میں شمولیت کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی حکومت انہیں کوئی وفاقی وزارت بھی سونپ سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
نئے مقرر ہونے والے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جس کا مقصد قانون سازی کے عمل میں متنوع تجربہ شامل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ صادق خان برطانوی-پاکستانی نژاد ہیں۔ ان کے والدین 1970ء کی دہائی میں پاکستان سے ہجرت کر کے لندن منتقل ہوئے تھے اور ان کی پیدائش 1970ء میں لندن میں ہی ہوئی۔ ان کے والد، امان اللہ خان، لندن میں بس ڈرائیور تھے اور ان کی والدہ، سحرون خان، سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھیں۔
صادق خان پہلی بار 2016ء میں لندن کے میئر بنے اور تب سے اب تک مسلسل تین بار یہ انتخاب جیت کر ایک منفرد برطانوی-پاکستانی لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔
