خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر میں خواتین کو موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے رواں سال نومبر میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ہیومن پیپی لوما وائرس (HPV) ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سروائیکل کینسر دراصل خواتین کے رحم کے نچلے حصے، جسے “سرویکس” کہا جاتا ہے، کے خلیات میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کینسر کی بنیادی وجہ ہیومن پیپی لوما وائرس (HPV) کی مخصوص اقسام کا انفیکشن ہے۔ ابتدائی مراحل میں عام طور پر اس کی کوئی واضع علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اسی لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق اس مہم کے دوران 9 سے 14 سال کی تمام اہل بچیوں کو یہ قیمتی ویکسین بالکل مفت لگائی جائے گی، جس کے لیے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 29 لاکھ بچیوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 16 لاکھ بچیوں کو مختلف تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں، جبکہ 13 لاکھ اسکولوں سے باہر (آؤٹ آف اسکول) بچیوں کو کمیونٹی لیول پر ویکسین دی جائے گی۔
اس مہم کو مروجہ قوانین اور بہترین سیکیورٹی کے ساتھ چلانے کے لیے سیکریٹری صحت خیبر پختونخوا کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بچیوں کی بروقت ویکسی نیشن یقینی بنائیں، کیونکہ ایچ پی وی ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ کا سب سے مؤثر اور محفوظ ترین ذریعہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق سروائیکل کینسر دنیا بھر میں خواتین میں چوتھا سب سے عام کینسر ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار سے زائد خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں اور تقریبًا 3 لاکھ 50 ہزار اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں بھی اس کا شمار خواتین میں پائے جانے والے مہلک ترین کینسرز میں ہوتا ہے۔ ہر سال ملک میں ہزاروں خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں، اور بروقت تشخیص و ویکسی نیشن نہ ہونے کے باعث اموات کی شرح بھی تشویشناک ہے۔
متاثر ہونے والی اہم شخصیات
دنیا کی کئی نامور شخصیات اس کینسر کا شکار ہوئیں، جنہوں نے بعد میں اس کے خلاف عالمی آگاہی مہم چلائی۔
مشہور امریکی اداکارہ مارشیا کراس بھی ایچ پی وی سے وابستہ کینسر کا شکار ہوئیں اور صحت یابی کے بعد اس وائرس کے خلاف کھل کر مہم چلائی۔
اس کے علاوہ برطانیہ کی مشہور رئیلٹی ٹی وی اسٹار جیڈ گوڈی 2009 میں محض 27 سال کی عمر میں سروائیکل کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ ان کی موت کے بعد برطانیہ میں اس کینسر کے ٹیسٹ اور ویکسی نیشن میں ریکارڈ اضافہ ہوا جسے “جیڈ گوڈی ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔
