امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی آمیز اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہزار میزائل ایران کی جانب نشانہ باندھے تیار ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے مجھے قتل یا اقدامِ قتل کی دھمکی پر عمل کیا تو سنگین نتائج ہوں گے۔ ایران نے دھمکی پر عمل کرنے کی کوشش کی تو مزید ہزاروں میزائل داغے جائیں گے۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ پر ہیں، ایران کئی برس سے انہیں مردہ دیکھنا چاہتا ہے، انہیں کچھ ہوا تو ایران پر اتنی بمباری کی جائے جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو۔
امریکا ایران مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے سوئٹزر لینڈ میں متوقع ہے ، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ ان کے پاس ایسی انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے ، صدر ٹرمپ
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے ان سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور ہم نے ایران کی درخواست پر اتفاق کر لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ تاہم خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے نئے مرحلے کی درخواست نہیں کی۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہم نے ثالثوں کا دورۂ ایران قبول کیا ہے۔
