تہران، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور عمان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی، جس میں حالیہ علاقائی پیش رفت، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا۔
بیان کے مطابق تمام وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی چینلز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ناگزیر ہے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پرایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم تہران خطے میں امن واستحکام کے قیام کے لئے سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت پانچ رہنماؤں کو خصوصی پیغام جاری کردیا
دوسری جانب ترک وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے علاقائی ممالک سے یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
