سنسنی سے بھرپور فیفا ورلڈ کپ 2026 انتہائی دلچسپ موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں پاکستانی وقت کے مطابق آج رات ایک بجے دفاعی رنر اپ فرانس اور مسلم دنیا سے واحد سروائیور مراکش کوارٹر فائنل میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔
یہ میچ 2022 کے قطر ورلڈ کپ سیمی فائنل کی یاد تازہ کرے گا جہاں فرانس نے مراکش کا کو 2-0 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کیا تھا۔
Moroccan players received a hero’s welcome back home in the capital, Rabat, for becoming the first country from Africa to reach the football World Cup semi-finals in Qatar.
France beat Morocco 2-0, before Les Bleus lost in the final to Argentina 4-2 on penalties (3-3 fulltime). pic.twitter.com/zxJ1lYItMF— TheNewsHawks (@NewsHawksLive) December 21, 2022
آج مراکش کے لیے اس شکست کا بدلہ لینے کا سنہری موقع ہے۔
مراکش نے 1956 میں فرانس سے آزادی حاصل کی
فرانس اور مراکش کا مقابلہ محض فٹ بال تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا نوآبادیاتی اور تاریخی پس منظر بھی شامل ہے۔
مراکش پر فرانس کا کئی دہائیوں تک قبضہ رہا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ ملک فرانس کی ایک کالونی تھا، جس نے بالآخر 1956 میں فرانسیسی استعماری سلطنت سے آزادی حاصل کی۔ آج بھی فرانس میں 7 لاکھ سے زائد مراکشی نژاد افراد آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی یہ دونوں ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں، تو شائقین کے جذبات عروج پر ہوتے ہیں۔
فٹ بال میں تاریخی طور پر کس کا پلا بھاری؟
دونوں ممالک کے درمیان فٹ بال میچز کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ٹیمیں اب تک 6 بار مدمقابل آچکی ہیں جن میں فرانس کا پلہ بھاری رہا ہے۔
فرانس نے 4 میچز جیتے ہیں جبکہ 2 مقابلے ڈرا ہوئے ہیں۔ مراکش اب تک فرانس کے خلاف اپنی پہلی فتح کی تلاش میں ہے۔
میچ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مقابلے سے ایک دن قبل ہی پیرس میں سیکیورٹی نمایاں حد تک بڑھا دی گئی ہے کیونکہ مراکش کی جیت کی صورت میں فرانسیسی مداحوں کی جانب سے سخت ردعمل آنے کا خدشہ ہے۔
🚨 𝗡𝗘𝗪: Paris ramps up security ahead of the France vs. Morocco World Cup quarterfinal amid fears of fan unrest.
· Authorities will deploy drones, ban fireworks and pyrotechnics, and close several metro stations around the Champs-Élysées to prevent large gatherings and… pic.twitter.com/HnednJpJeB
— The Touchline | 𝐓 (@TouchlineX) July 9, 2026
اگر کہا جائے کہ فرانس اور مراکش فٹبال میں ویسے ہی حریف ہیں جیسے پاکستان اور بھارت کرکٹ میں ہیں تو بے جا نہ ہو گا، کیونکہ دونوں کے درمیان نہ صرف کھیل بلکہ سیاسی اور ثقافتی رقابت کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ پھر 2022 کا ٹاکرا اور مراکش کی شکست کا بدلہ لینے کی آگ نے جلتی پر تیل کا کام کر رکھا ہے۔
کوارٹر فائنل میں پہنچنا اتفاق ہے یا مراکش کی قابلیت؟
مراکش کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل تک کا سفر شاندار رہا ہے۔ ٹیم اب کوئی “سرپرائز” نہیں رہی بلکہ وہ دنیا کی صف اول کی ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں مراکش کی کارکردگی انتہائی جاندار رہی ہے:
گروپ اسٹیج: برازیل جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ڈرا کھیلا، جبکہ ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ کو آسانی سے ہرایا۔
راؤنڈ آف 16: کینیڈا کو یکطرفہ مقابلے میں 3-0 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔
Morocco are going into the Quarter-final at the FIFA World afte wining 3-0 against Canada. Congratulations to them 👏🏿❤️ https://t.co/CZQYnAputg pic.twitter.com/n3Tx7xOiaF
— Zoom Afrika (@zoomafrika1) July 4, 2026
اس تاریخی فتح کے ساتھ مراکش نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور وہ مسلسل 2 ورلڈ کپ کے آخری 8 (کوارٹر فائنل) میں پہنچنے والا پہلا افریقی ملک بن گیا ہے۔
مراکش کے کوچ محمد واہبی کا کہنا ہے: “ہم اب کوئی سرپرائز نہیں رہے، اور یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ تو بس شروعات ہے، ہمارا مقصد فرانس سے بدلہ لینا نہیں بلکہ اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کرنا ہے۔”
دوسری جانب، فرانس کی ٹیم اب بھی کائلان ایمباپے کی شاندار فارم کی بدولت ٹورنامنٹ کی سب سے مضبوط ٹیم دکھائی دے رہی ہے، جس نے راؤنڈ آف 16 میں پیراگوئے کو 1-0 سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔
ورلڈ کپ کی دوڑ میں باقی واحد مسلم ملک
اس بار ریکارڈ 14 مسلم اکثریتی ممالک نے 48 ٹیموں کے اس وسیع ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، جن میں الجزائر، مصر، سینیگال، سعودی عرب اور ترکیہ شامل تھے۔ تاہم اب مراکش اس ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل کی ریس میں باقی رہ جانے والی واحد مسلم اور افریقی ٹیم ہے۔ مصر کی ٹیم راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹائن سے 3-2 سے ہار کر باہر ہو گئی تھی۔
The referee during Argentina vs. Egypt didn’t show a single card until Enzo’s 92nd-min winner.
He then handed out six cards to Egypt…
Including a red card for a member of staff, a yellow for head coach Hossam Hassan and even a yellow for a player not on the pitch 😮 pic.twitter.com/vDXloig9AL
— ESPN Africa (@ESPNAfrica) July 7, 2026
سوشل میڈیا پر مراکش کی حمایت میں ایک طوفان آیا ہوا ہے۔ دنیا بھر کے مسلم اور افریقی شائقین مراکش کو “افریقہ کی آخری دیوار” قرار دے رہے ہیں۔ شائقین 2022 کی یادیں تازہ کر رہے ہیں جب اسٹیڈیمز میں تکبیر اور صلوٰۃ کی گونج سنائی دیتی تھی۔
All muslim in the world support morocco against france ini quarter final world cup
— BakteriAsamlaktat (@miqbalghufran) July 9, 2026
اس جوش و خروش کے درمیان مراکش کے وزیر کھیل محمد سعد براد سے منسوب ایک فیک بیان بھی گردش کر رہا ہے کہ ان کی ٹیم پورے افریقہ کے بجائے صرف مراکش کے مفادات، عزت اور شناخت کی نمائندگی کے لیے کھیلتی ہے۔
📣 #OfficialStatement following the circulation of statements falsely attributed to Mr. Mohamed Saad Berrada, Minister of National Education, Preschool and Sports, alleging that “Morocco does not represent Africa”.#Statement#Sports#FIFAWorldCup#WhyNotAfrica pic.twitter.com/cH4DYKYCGu
— وزارة التربية الوطنية والتعليم الأولي والرياضة (@MENPSGOV) July 8, 2026
دوسری جانب مصر اور ارجنٹینا کے میچ کے دوران اٹھنے والے تنازع اور مصر کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کی وجہ سے بھی مسلم اور افریقی فٹ بال مداحوں کی مراکش کے لیے ہمدردیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
FIFA was never going to let a Muslim country end Messi’s career.
Watch for the same treatment towards Morocco on Thursday.
— Brian’s Breaking News and Intel (@intelFromBrian) July 7, 2026
