خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو چین سے کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹمز (MANPADS) کی پہلی کھیپ آئندہ چند ہفتوں میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
تاہم چین کی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی ان قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں پاکستان کواس مبینہ ترسیل سے جوڑا جا رہا تھا۔
رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق ایران نے چینی ساختہ QW-12 اور FN-16 مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمزکی خریداری کے لیے مجموعی طورپر300 سے 400 میزائل لانچرز کا معاہدہ کیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کی مالیت 60 سے 70 ملین ڈالرکے درمیان بتائی جا رہی ہے اور اسے حالیہ جنگی صورتحال کے بعد ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ ہانگ کانگ میں قائم کمپنی ژونگ چنگ باوشانگ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے ذریعے طے پایا، جس نے ایرانی فریق اور چینی سپلائر کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی کھیپ چین کے شہر ارومچی سے فضائی راستے کے ذریعے روانہ کئے جانے کا امکان ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران کو گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اوراسرائیل کے ساتھ کشیدگی اورحملوں کے نتیجے میں اپنے میزائل، ڈرون اورفضائی دفاعی تنصیبات کو نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد تہران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو ازسرنو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حملوں نے ایران کے حساس فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کے تحفظ میں موجود بعض کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا، جس کے باعث ایسے جدید اور قابلِ نقل و حمل فضائی دفاعی نظام کی ضرورت میں اضافہ ہوا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمز (MANPADS) ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جنہیں ایک یا دو اہلکار آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر کا ایک بار پھر ایران پر حملوں کا اعلان
یہ نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں فوری طورپرایک مقام سے دوسرے مقام پرمنتقل کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی فضائی دفاعی نظام کے مقابلے میں انہیں نشانہ بنانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم ترسیل کے شیڈول، حتمی مقدار اور دیگر انتظامی تفصیلات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کے باوجود ایران اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی ذرائع سے جدید ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا حامی رہا ہے اور اس نوعیت کی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ چین ذمہ دارانہ دفاعی اور سفارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا جبکہ معاہدے میں مبینہ طور پر شامل چینی کمپنی کی جانب سے بھی کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیل میں پہلی بار ہجرت کا رخ الٹ گیا، جانے والوں کی تعداد آنے والوں سے بڑھ گئی
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ابتدائی ترسیل کے بعد یہ سامان ممکنہ طور پر پاکستان کے راستے ایران منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی یا مصدقہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رائٹرزذرائع کے مطابق آئی ایس پی آرنے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے، “چین کی جانب سے ایران کو ایئر ڈیفنس ہتھیاروں کی سپلائی میں پاکستان کے ملوث ہونے کی قیاس آرائیاں بالکل من گھڑت اور غلط ہیں۔”
آئی ایس پی آرکے مطابق ایسی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور پاکستان کو بلاجوازاس معاملے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران واقعی اس نوعیت کے پورٹیبل فضائی دفاعی نظام حاصل کرتا ہے تو اس سے کم بلندی پر ہونے والے فضائی خطرات سے نمٹنے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رائٹرز کی رپورٹ کے ساتھ چین کی سرکاری تردید، ایران کی خاموشی اورآئی ایس پی آر کے واضح مؤقف کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔
