راولپنڈی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال، دہشت گردی، سندھ طاس معاہدے اور مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فورم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز پانی کے حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے سے ہرگز گریز نہیں کرے گا۔
کانفرنس کے شرکاء نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی بیانات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایات اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
فورم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغان طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں بھارتی پراکسیز کی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پاکستان کو اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
پاکستانی سفارتخانے افرادی قوت کیلئے روزگار کے مواقع کی تلاش تیز کریں، وزیر اعظم
شرکاء نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یکطرفہ آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جانا چاہیے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے کہا کہ معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دُشمن جھوٹے بیانیوں سے بے امنی پھیلانا چاہتا ہے، انتشار پھیلانے والی ہر کوشش کو کچلا جائیگا اورپاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
کانفرنس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر طرز حکمرانی، عوامی خدمت پر مبنی مضبوط انتظامی ڈھانچہ اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
