اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری سانحہ کیس کا 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے 264 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو ملزمان، محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن عرف بھولا کو بری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اڑھائی سال بعد سامنے آنے والی نئی کہانی قابل اعتماد نہیں، جبکہ تاخیر سے دیئے گئے بیانات اور عدالتی اعتراف جرم کی آزاد شواہد سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ فرانزک شواہد سے کیمیکل کے استعمال کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔ جبکہ 34 زخمی گواہوں میں سے کسی نے بھی ملزمان کے خلاف بیان نہیں دیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کیے جانے سے استغاثہ کا مقدمہ مزید کمزور ہو گیا۔
عدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف عدالتی ریمارکس بھی حذف کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے فیصلہ تحریر کیا، جبکہ جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد نے اس سے اتفاق کیا۔
سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا مختصر فیصلہ 10 جون کو جاری کیا تھا۔
واضح رہے کہ کراچی میں 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع فیکٹری “علی انٹر پرائز گارمنٹس” میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں 264 افراد زندہ جل کر ہلاک ہوئے جبکہ 50 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو 264 بار سزائے موت اور 4 ملزمان کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔
اس واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے قائم جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری میں آگ لگنے کی اصل وجہ حادثہ نہیں بلکہ 22 کروڑ روپے بھتہ نہ دینا تھی، جس پر فیکٹری کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار ایک ملزم رضوان قریشی نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما حماد صدیقی نے فیکٹری کے مالکان سے بھتہ طلب کیا تھا۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فیکٹری مالکان کے انکار پر ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا نے 11 ستمبر 2012 کو آگ لگانے والا کیمیکل پھینکا جس سے وہاں آگ لگی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فیکٹری میں ہونے والا سانحہ آتش زنی کا واقعہ تھا جب کہ شواہد بتاتے ہیں کہ الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے کوئی آثار نہیں ملے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کا معاوضہ صرف سرکاری ریٹ پر نہیں، مارکیٹ ویلیو بھی لازمی، سپریم کورٹ
جے آئی ٹی نے رپورٹ میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تکنیکی رپورٹس، شہادتوں اور گواہوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگانے کا عمل حادثہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا دہشت گردی کا منصوبہ تھا۔ جو غالباَ کیمیکل کے استعمال سے ممکن ہوا۔
