اسلام آباد ہائیکورٹ نے نابینا خاتون کو انصاف فراہم کرکے مثال قائم کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینک مینجر کے ہاتھوں مالی فراڈ کا شکار نابینا خاتون درخشاں مرزا کو بڑی قانونی کامیابی دلاتے ہوئے ایک کروڑ 92 لاکھ روپے کی رقم واپس دلوا دی، جبکہ بقایا رقم کی وصولی کے لیے سزا یافتہ بینک مینجر رمیز جاوید کی دونوں گاڑیاں بھی خاتون کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی، عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو ہدایت کی کہ رمیز جاوید کی دونوں گاڑیاں ایک ہفتے کے اندر ریکور کرکے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
سماعت کے دوران نابینا خاتون درخشاں مرزا عدالت میں پیش ہوئیں اور ججز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، “آپ دونوں ججز صاحبان کا بہت بہت شکریہ۔”
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ درخشاں مرزا کو پہلے ہی ایک کروڑ 59 لاکھ روپے ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز 28 لاکھ روپے اور 5 لاکھ 30 ہزار روپے کے دو مزید چیکس بھی موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر ایک کروڑ 92 لاکھ روپے واپس کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ باقی رقم کی وصولی کے لیے دونوں گاڑیاں بھی ایک ہفتے میں ریکور کر لی جائیں گی۔
رمیز جاوید کروڑوں روپے کے مالی فراڈ کیس میں سزا یافتہ ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ان پر نابینا خاتون درخشاں مرزا کے دو کروڑ روپے سے زائد ہڑپ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور رقم کی ریکوری کا حکم دیا تھا۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کر لیں
مکمل رقم واپس نہ ملنے پر درخشاں مرزا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی، عدالت نے ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔
